سنن ترمذي
كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب و احکام
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ باب: سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2694
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ؟ فَقَالَ : " أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , قَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَهُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے “ ۱؎ ۔ ( وہ پہل کرے گا )
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں ، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جس کا زیادہ لگاؤ اور تعلق ہو گا اس میں تواضع اور خاکساری بھی زیادہ پائی جائے گی، اس لیے وہ سلام کرنے میں بھی پہل کرے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ” ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے “ ۱؎۔ (وہ پہل کرے گا) [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2694]
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ” ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے “ ۱؎۔ (وہ پہل کرے گا) [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2694]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جس کا زیادہ لگاؤ اورتعلق ہو گا اس میں تو اضع اورخاکساری بھی زیادہ پائی جائے گی، اس لیے وہ سلام کرنے میں بھی پہل کرے گا۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جس کا زیادہ لگاؤ اورتعلق ہو گا اس میں تو اضع اورخاکساری بھی زیادہ پائی جائے گی، اس لیے وہ سلام کرنے میں بھی پہل کرے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2694 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5197 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5197]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5197]
فوائد ومسائل:
سلام کہنے میں ابتدا کرنے کی بہت فضلیت ہے، مگردرج ذیل آداب کو پیش نظر رکھا جائے۔
سلام کہنے میں ابتدا کرنے کی بہت فضلیت ہے، مگردرج ذیل آداب کو پیش نظر رکھا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5197 سے ماخوذ ہے۔