حدیث نمبر: 2691
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ : " اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ : سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، وَإِنَّمَا أَنْكَرَ عُمَرُ , عِنْدَنَا , عَلَى أَبِي مُوسَى حَيْثُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ ، فَإِذَا أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ " وَقَدْ كَانَ عُمَرُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأَذِنَ لَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ عَلِمَ هَذَا الَّذِي رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی ، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے ، ۳- میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اجازت تین بار طلب کی جائے ، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ “ ۔ ( رہ گیا عمر رضی الله عنہ کا اپنا معاملہ ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی ، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد، منكر المتن
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10499) (ضعیف الإسناد منکر المتن) (اس کے راوی ’’ عکرمہ بن عمار ‘‘ روایت میں غلطی کر جاتے تھے، اور فی الحقیقت یہ روایت پچھلی صحیح روایت کے برخلاف ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان۔`
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2691]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی ’’عکرمہ بن عمار‘‘ روایت میں غلطی کر جاتے تھے، اور فی الحقیقت یہ روایت پچھلی صحیح روایت کے برخلاف ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2691 سے ماخوذ ہے۔