حدیث نمبر: 2670
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَسْتَحْمِلُهُ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ مَا يَتَحَمَّلُهُ ، فَدَلَّهُ عَلَى آخَرَ فَحَمَلَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ " , وفي الباب عن أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، وَبُرَيْدَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آیا ، تو آپ کے پاس اسے کوئی سواری نہ ملی جو اسے منزل مقصود تک پہنچا دیتی ۔ آپ نے اسے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیج دیا ، اس نے اسے سواری فراہم کر دی ۔ پھر اس نے آ کر آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا : ” بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا ( ثواب میں ) بھلائی کرنے والے ہی کی طرح ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی انس رضی الله عنہ کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابومسعود بدری اور بریدہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الصحيحة (1160) ، التعليق الرغيب (1 / 72)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 902) (حسن صحیح)»