سنن ترمذي
كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: علم اور فہم دین
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ باب: (ابتدائے اسلام میں) احادیث لکھنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2665
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : " اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابَةِ فَلَمْ يَأْذَنْ لَنَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، رَوَاهُ هَمَّامٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے ( ابتداء اسلام میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم ( حدیث ) لکھ لینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں لکھنے کی اجازت نہ دی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی زید بن اسلم کے واسطہ سے آئی ہے ، اور اسے ہمام نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع اسلام میں یہ حکم تھا: «لا تكتبوا عني ومن كتب عني غير القرآن فليمحه وحدثوا عني ولا حرج» (صحیح مسلم) یعنی قرآن کے علاوہ میری کوئی بات نہ لکھو، اور اگر کسی نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھ لیا ہے تو اسے مٹا دے، البتہ میری حدیثوں کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان: «بلغوا عني ولو آية» کے ذریعہ اس کی اجازت بھی دے دی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´(ابتدائے اسلام میں) احادیث لکھنے کی کراہت کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے (ابتداء اسلام میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم (حدیث) لکھ لینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں لکھنے کی اجازت نہ دی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2665]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے (ابتداء اسلام میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم (حدیث) لکھ لینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں لکھنے کی اجازت نہ دی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2665]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع اسلام میں یہ حکم تھا: (لَا تَكْتُبُوا عَنِّي وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآن فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَج‘‘ (صحیح مسلم) یعنی قرآن کے علاوہ میری کوئی بات نہ لکھو، اور اگر کسی نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھ لیا ہے تو اسے مٹا دے، البتہ میری حدیثوں کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر بعد میں آپ ﷺ نے اپنے فرمان: (بَلِّغُوْا عَنِّي وَلَوْ آيَة) کے ذریعہ اس کی اجازت بھی دے دی۔
وضاحت:
1؎:
اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع اسلام میں یہ حکم تھا: (لَا تَكْتُبُوا عَنِّي وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآن فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَج‘‘ (صحیح مسلم) یعنی قرآن کے علاوہ میری کوئی بات نہ لکھو، اور اگر کسی نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھ لیا ہے تو اسے مٹا دے، البتہ میری حدیثوں کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر بعد میں آپ ﷺ نے اپنے فرمان: (بَلِّغُوْا عَنِّي وَلَوْ آيَة) کے ذریعہ اس کی اجازت بھی دے دی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2665 سے ماخوذ ہے۔