سنن ترمذي
كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: علم اور فہم دین
باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتَهُ مِنَ النَّارِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے میرے متعلق جھوٹی بات کہی “ ، ( انس کہتے ہیں ) میرا خیال ہے کہ آپ نے «من كذب علي» کے بعد «متعمدا» کا لفظ بھی کہا یعنی جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا ، ” تو ایسے شخص کا ٹھکانا جہنم ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ یعنی زہری کی اس روایت سے جسے وہ انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں ، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ دس سال تک سفر وحضر،عسر ویسر، خلوت وجلوت میں آپ کے ساتھ رہے۔
کثرت صحبت کے نتیجے میں جس قدر روایات ان سے منقول ہونی چاہیے تھیں، اس قدر نہیں ہیں۔
حدیث بالا میں انھوں نے اس کی وجہ بیان فرمائی ہے۔
ان جیسے محتاط صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کا طرز عمل یہ نہ تھا کہ روایات بیان ہی نہ کرتے تھے بلکہ کثرت روایات سے پرہیز کرتے تھے کیونکہ اس میں بے احتیاطی کا اندیشہ تھا۔
چونکہ کتمان علم پر سخت وعید ہے کہ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی، اس بناء پر جہاں ضرورت ہوتی وہاں بیان فرما دیتے۔
اس احتیاط کے باوجود حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بکثرت روایات کتب حدیث میں مذکور ہیں۔
وہ شاید اس وجہ سے ہے کہ آپ نے طویل عمر پائی اور اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ سے پہلے رخصت ہوچکے تھے۔
لوگ مسائل پوچھنے کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے، اس لیے روایات کی کثرت ہوئی اگرچہ یہ کثرت بھی ان کے مجموعہ معلومات کے مقابلے میں اقل قلیل ہے۔
(فتح الباري: 266/1)
2۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگرمجھے بیان حدیث میں غلطی کا اندیشہ نہ ہوتو میں بکثرت احادیث بیان کروں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صرف اسی حدیث کو بیان کرتے تھے جس کے متعلق آپ کو یقین ہوتا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ہے۔
اگر کہیں شک پڑ جاتا تو اسے بیان کرنے سے اجتناب کرتے۔
بعض حضرات نے اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آپ روایت باللفظ کا بہت خیال رکھتے تھے، حالانکہ یہ بات درست نہیں، اس لیے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بالمعنی ثابت ہے جیسا کہ قراءت فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنے تکثیر طعام اور وضو کے وقت پانی کے زیادہ ہونے کے متعلق روایات ہیں۔
(فتح الباري: 266/1)
ہر وقت احادیث بیان کرنے میں بھول چوک کا احتمال ہے، اس لیے جو انسان پوری احتیاط اور حزم سے کام نہیں لیتا، وہ گویا کہ عمداً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے، لیکن اگر کوئی انسان پورے طور پر حزم و احتیاط سے سے کام لے کر ان روایات کو بیان کرتا ہے، جو اسے پوری طرح یاد ہیں، اور اس کو یقین ہے، تو پھر معمولی چوک کا خطرہ نہیں، کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کر رکھا ہے، یا کتاب سامنے رکھ کر بیان کرتا ہے۔
اور «فَلْيَتَبَوَّأْ» امر کا صیغہ ہے، لیکن خبر کے معنی میں ہے: ’’کہ اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ‘‘
یا یہ دعا ہے: ’’کہ اللہ تعالیٰ اس کا ٹھکانا جہنم بنائے۔ ‘‘
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میرے اوپر جھوٹ باندھے ”(انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میرا خیال ہے کہ آپ نے «متعمدا» بھی فرمایا یعنی جان بوجھ کر“ ۱؎ تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 32]
کو یہ شک ہے کہ «مُتَعَمِّدًا» کا کلمہ بھی فرمایا یا نہیں
اور باقی حدیث میں کوئی شک نہیں۔
➋ یہ راوی کی دیانتداری ہے کہ
اسے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات
میں سے جس کلمہ پر شک تھا
اس نے اس کا برملا اظہار کر دیا۔
➌ دیگر روایات سے واضح ہے کہ
«مُتَعَمِّدًا» کا کلمہ حدیث رسول میں شامل ہے۔
اسے راوی کا شک کہنا درست نہیں ہے۔