سنن ترمذي
كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: علم اور فہم دین
باب مَا جَاءَ فِي الْحَثِّ عَلَى تَبْلِيغِ السَّمَاعِ باب: دوسرے تک دین کی بات پہنچانے پر ابھارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ، فَإِنَّ الدَّعْوَةَ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " .´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے ، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیونکہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھا سکتا ، ( ۱ ) عمل خالص اللہ کے لیے ( ۲ ) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی ( ۳ ) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیونکہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہٰ کرتی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 232]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نام کے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے احادیث مروی ہیں۔
اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔
جب صرف عبداللہ (صحابی)
لکھا ہو تو مراد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی ہوں گے۔
(2)
اس حدیث میں بشارت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد بھی ہر دور میں حفاظ حدیث موجود رہیں گے اگرچہ ان کی تعداد کسی دورمیں بہت زیادہ اور کسی دور میں کم ہو گی۔
(3)
حفظ حدیث سے عموماً حدیث کو زبانی یاد رکھنا مراد لیا جاتا ہے لیکن تحریری طور پر حدیث کو محفوظ کر لینا بھی حفظ حدیث میں شامل ہے۔
ائمہ حدیث نے دونوں طرح حدیث کو محفوظ کیا ہے بلکہ صحابہ کرام میں سے متعدد حضرات حدیث تحریری طور پر محفوظ رکھتے تھے اور زبانی بھی یاد کرتے تھے اور روایت کرتے تھے۔
مثلا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ وغيره۔
«. . . وَعَن ابْن مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جس نے ہم سے حدیث کو سنا اور جس طرح سنا اسی طرح لوگوں تک پہنچا دیا۔ کیونکہ بہت سے لوگ جن کو پہنچایا جاتا ہے سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 230]
صحیح ہے۔ دیکھئے حدیث: [اضواء المصابيح: 228 - 229]
◄ سنن دارمی والی روایت میں یحییٰ بن موسیٰ البلخی، ابوسعید عمرو بن محمد العنقزی القرشی الکوفی اور اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق السبیعی تینوں ثقہ تھے۔
◄ عبدالرحمٰن بن زبید بن الحارث الیامی کو ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا اور اس پر امام بخاری کی طرف منسوب جرح منکر الحدیث جو امام بخاری سے ثابت نہیں، لہٰذا عبدالرحمٰن مذکور مجہول الحال ہے۔
ابوالعجلان کو بقول حافظ ابن حجر عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے، لیکن ہمیں یہ حوالہ کتاب الثقات (التاریخ) للعجلی میں نہیں ملا۔ «والله اعلم»
◄ مختصر یہ کہ دارمی والی سند عبدالرحمٰن بن زبید کی جہالت حال وغیرہ کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے صحیح شواہد ہیں، لہٰذا یہ حدیث شواہد کے ساتھ صحیح ہے۔ «والحمد لله»
فائدہ:
دارمی والی روایت مذکورہ کو طبرانی نے «اسرائيل عن عبدالرحمٰن بن زبيد» کی سند سے بیان کیا ہے۔ ديكهئے: [جامع المسانيد لابن كثير 13؍652۔ 653 ح11187، وفي المطبوع تصحيف]
فقہ الحدیث کے لئے دیکھئے حدیث سنن ترمذی: [2656]
تنبیہ:
«نضر الله امرءًا» اور «نضر الله امرأً» دونوں طرح لکھنا صحیح ہے، جبکہ اول الذکر زیادہ فصیح ہے۔