سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْقِرَاءَةِ، فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 264
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ " . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ كَرِهُوا الْقِرَاءَةَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے ، سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ۳- صحابہ کرام ، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا یہی قول ہے ، ان لوگوں نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے کو مکروہ کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3602 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مردوں کے لیے پیلے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3602]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3602]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: حضرت علی ؓ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اے علی! کسم کا رنگا ہوا مت پہن۔
یہ نہیں فرمایا: لوگو! یہ رنگ نہ پہنو تاہم حکم سب کے لئے ایک ہی ہے۔
فوائد ومسائل: حضرت علی ؓ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اے علی! کسم کا رنگا ہوا مت پہن۔
یہ نہیں فرمایا: لوگو! یہ رنگ نہ پہنو تاہم حکم سب کے لئے ایک ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3602 سے ماخوذ ہے۔