حدیث نمبر: 2636
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَاعِنُ الْمُؤْمِنِ كَقَاتِلِهِ ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَاتِلِهِ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِمَا قَتَلَ بِهِ نَفْسَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , وفي الباب عن أَبِي ذَرٍّ ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ۱؎ ، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل ، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا ، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ میرے مریض کو شفاء دیدے تو فلاں غلام آزاد ہے، حالانکہ اس غلام کا وہ مالک نہیں ہے، معلوم ہوا کہ جو چیز بندہ کے بس میں نہیں ہے اس کی نذر ماننا صحیح نہیں اور ایسی نذر کا کچھ بھی اعتبار نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2636
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2098)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجنائز 83 (1363) ، والأدب 44 (6047) ، و73 (6105) ، والأیمان والنذور 7 (6652) ، صحیح مسلم/الأیمان 47 (110) ، سنن ابی داود/ الأیمان 9 (3257) ، سنن النسائی/الأیمان 7 (3801، 3802) ، و31 (3844) ( تحفة الأشراف : 2062) ، و مسند احمد (4/33، 34) (وانظر ماتقدم عند المؤلف برقم 1527) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 110 | سنن نسائي: 3801

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اپنے مسلمان بھائی کو کافر ٹھہرانے والا کیسا ہے؟`
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ۱؎، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2636]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ میرے مریض کو شفاء دے دے تو فلاں غلام آزاد ہے، حالاں کہ اس غلام کا وہ مالک نہیں ہے، معلوم ہوا کہ جو چیز بندہ کے بس میں نہیں ہے اس کی نذر ماننا صحیح نہیں اور ایسی نذرکا کچھ بھی اعتبار نہیں ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2636 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 110 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے اس کے بارے میں نذر اس کے ذمہ نہیں ہے۔ مومن پر لعنت بھیجنا اس کے قتل کے مترادف ہے۔ اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا قیامت کے دن اسی چیز سے اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اور جس نے مال میں اضافہ کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس کے مال میں کمی کرے گا، یہی حال اس کا ہو گا جو فیصلہ کن جھوٹی قسم اٹھاتا ہے (یعنی جس قسم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:303]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
کسی مسلمان پر بلاوجہ اور تعیین کے بغیر لعنت بھیجنا انتہائی حرکت ہے، اس سے احتراز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 303 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3801 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اسلام کے سوا کسی دوسری ملت اور مذہب کی قسم کھانے کا بیان۔`
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسلام کے سوا کسی اور ملت و مذہب کی جو کوئی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا "، قتیبہ نے اپنی حدیث میں «متعمدا» کہا ہے (یعنی دوسری ملت کی جان بوجھ کر قسم کھائے) اور یزید نے «كاذبا» کہا ہے (جو دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا) تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ۱؎ اور جو کوئی اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3801]
اردو حاشہ: (1) اس قسم کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو تو میں یہودی یا عیسائی وغیرہ ہوجاؤں‘ حالانکہ اس نے وہ کام کیا ہے اور اسے یاد بھی ہے۔ یا اگر میں یہ کام کروں تو میں یہودی یا عیسائی‘ جب کہ اس کی نیت ہو کام کرنے کی ہے‘ صرف دھوکا دہی کے لیے قسم کھاتا ہے۔ ظاہر ہے اس شخص نے یہودی یا عیسائی ہونے کے پسند کیا ہے۔ گویا وہ یہودی یا عیسائی ہی ہے۔
(2) "عذاب دیتا رہے گا" یعنی اس کی موت سے لے کر حشر تک۔ اس کے بعد اس کے مجموعی اعمال کی بنیاد پر اس کے جنت یا جہنم میں جانے کا فیصلہ ہوگا۔ یہ اس کی قسمت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3801 سے ماخوذ ہے۔