سنن ترمذي
كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایمان و اسلام
باب مَا جَاءَ فِي عَلاَمَةِ الْمُنَافِقِ باب: منافق کی پہچان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ وَيَنْوِي أَنْ يَفِيَ بِهِ فَلَمْ يَفِ بِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ ، وَلَا يُعْرَفُ أَبُو النُّعْمَانِ وَلَا أَبُو وَقَّاصٍ وَهُمَا مَجْهُولَانِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ ( کسی عذر و مجبوری سے ) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اس کی اسناد قوی نہیں ہے ، ۳- علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں ، ابونعمان اور ابووقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´منافق کی پہچان کا بیان۔`
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ (کسی عذر و مجبوری سے) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2633]
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ (کسی عذر و مجبوری سے) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2633]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا، کیوں کہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا، کیوں کہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2633 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4995 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´وعدہ کا بیان۔`
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا، پھر وہ اسے پورا نہ کر سکے اور وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4995]
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا، پھر وہ اسے پورا نہ کر سکے اور وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4995]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔
لیکشن انسان اگر فطری طور پر نسیان کا شکار ہوگیا ہو تومعاف ہے، مگر عمدا وعدے کا پاس نہ کرنا اور اس کے خلاف کرنا علامات نفاق میں سے ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
لیکشن انسان اگر فطری طور پر نسیان کا شکار ہوگیا ہو تومعاف ہے، مگر عمدا وعدے کا پاس نہ کرنا اور اس کے خلاف کرنا علامات نفاق میں سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4995 سے ماخوذ ہے۔