حدیث نمبر: 2626
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَاسْمُهُ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ ، وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ، وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا كَفَّرَ أَحَدًا بِالزِّنَا أَوِ السَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی اور اس سے درگزر کر دیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- یہی اہل علم کا قول ہے ۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے ، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (2604) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (567) مع اختلاف في اللفظ، ضعيف الجامع الصغير (5423) ، المشكاة (3629) // , شیخ زبیر علی زئی: (2626) إسناده ضعيف/ جه 2604, أبو إسحاق عنعن (تقدم:107)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الحدود 33 (2604) ( تحفة الأشراف : 10313) (ضعیف) (سند میں حجاج بن محمد المصیصی اگرچہ ثقہ راوی ہیں، لیکن آخری عمر میں موت سے پہلے بغداد آنے پر اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، اور ابواسحاق السبیعی ثقہ لیکن مدلس اور مختلط راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2604 | معجم صغير للطبراني: 916

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا۔`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی اور اس سے درگزر کر دیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2626]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حجاج بن محمد المصیصی اگرچہ ثقہ راوی ہیں، لیکن آخر ی عمر میں موت سے پہلے بغداد آنے پر اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، اور ابواسحاق السبیعی ثقہ لیکن مدلس اور مختلط راوی ہیں اورروایت عنعنہ سے ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2626 سے ماخوذ ہے۔