سنن ترمذي
كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایمان و اسلام
باب مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الصَّلاَةِ باب: نماز چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2622
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ : " كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : سَمِعْت أَبَا مُصْعَبٍ الْمَدَنِيَّ , يَقُولُ : مَنْ قَالَ الْإِيمَانُ قَوْلٌ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلَّا ضُرِبَتْ عُنُقُهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ` صحابہ کرام ( رضی الله عنہم ) نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑ دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : میں نے ابومصعب مدنی کو کہتے ہوئے سنا کہ جو یہ کہے کہ ایمان صرف قول ( یعنی زبان سے اقرار کرنے ) کا نام ہے اس سے توبہ کرائی جائے گی ، اگر اس نے توبہ کر لی تو ٹھیک ، ورنہ اس کی گردن مار دی جائے گی ۔