حدیث نمبر: 2603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ هُوَ ابْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهَكَذَا يَقُولُ عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَيَقُولُ أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَكِلَا الْإِسْنَادَيْنِ لَيْسَ فِيهِمَا مَقَالٌ ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو رَجَاءٍ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ عَوْفٍ أَيْضًا هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں اور جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- عوف نے سند بیان کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے : «عن أبي رجاء عن عمران بن حصين» اور ایوب نے کہا : «عن أبي رجاء عن ابن عباس» ، دونوں سندوں میں کوئی کلام نہیں ہے ۔ اس بات کا احتمال ہے کہ ابورجاء نے عمران بن حصین اور ابن عباس دونوں سے سنا ہو ، عوف کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث ابورجاء کے واسطہ سے عمران بن حصین سے روایت کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2603
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (2602)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3241) ، والنکاح 88 (5198) ، والرقاق 16 (6449) ، و 51 (6546) ( تحفة الأشراف : 10873) ، و مسند احمد (4/429، 443) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3241 | صحيح البخاري: 5198 | صحيح البخاري: 6546

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3241 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3241. حضرت عمران بن حصین ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’میں نے جنت میں جھانک کردیکھا تو وہاں اکثریت فقراء کی تھی اور جہنم میں جھانکا تو وہاں عورتیں زیادہ تھیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3241]
حدیث حاشیہ: جنت میں غریبوں سے موحد، متبع سنت غریب لوگ مراد ہیں جو دیندار اغنیاء سے کتنے ہی برس پہلے جنت میں داخل کردئیے جائیں گے اور دوزخ میں زیادہ عورتیں نظر آئیں، جو ناشکری اور لعن طعن کرنے والی آپس میں حسد اور بغض رکھنے والی ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3241 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3241 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3241. حضرت عمران بن حصین ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’میں نے جنت میں جھانک کردیکھا تو وہاں اکثریت فقراء کی تھی اور جہنم میں جھانکا تو وہاں عورتیں زیادہ تھیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3241]
حدیث حاشیہ:

حدیث میں فقراء سے مراد موحد اورمتبع سنت غریب ہیں جو دیندار اغنیاء سے کتنے ہی برس پہلے جنت میں داخل کردیے جائیں گے۔
اس کی وجہ یہ ہوگی کہ دنیا میں انھیں اتنا مال میسر نہیں آیا جس کے سبب وہ بد اعمالیوں کی طرف مائل ہوتے کیونکہ کثرت مال گناہوں کا ذریعہ بنتے ہیں، نیز مال کی بہتات سے انسان کا دل سخت ہوجاتا ہے جو اسے ظلم وستم پر آمادہ کرتا ہے۔
اس بنا پر نادار لوگ ان آلائشوں سے محفوظ رہیں گے۔
اور جہنم میں عورتوں کی اکثریت اس لیے ہوگی کہ وہ عام طور پر لعن طعن کرنے والی اور ناشکرگزار ہوتی ہیں نیز آپس میں حسد و بغض رکھنا ان کی عادت ہے جو جہنم میں جانے کا باعث ہوگا۔
اس کے علاوہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عورتیں جلدی بے دین لوگوں کے جھانسے میں آجاتی ہیں کیونکہ زیب و زینت کی طرف ان کا میلان زیادہ ہوتا ہے۔
اگرانھیں آخرت کی طرف توجہ دلائی جائے تو کان نہیں دھرتیں۔

امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ جنت موجود ہے تبھی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کی رات یہ مشاہدہ کیا ہو۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3241 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5198 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5198. سیدنا عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت نادار لوگوں کی تھی۔ پھر میں نے ایک نظر سے دوزخ کو دیکھا تو اس کے اندر رہنے والی اکثر عورتیں تھیں۔ اس روایت کو ابو رجاء سے بیان کرنے میں ایوب اور سلم بن زریر نے عوف کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5198]
حدیث حاشیہ:
عورتوں کی اکثریت کا دوزخ میں ہونا ان کے داخل ہونے کے وقت ہے اور اس کا سبب خاوند کی ناشکری اور احسان فراموشی ہے۔
آخر کار مختلف سفارشوں سے انھیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔
عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کریں اور اپنے خاوندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ بلکہ ان کی خدمت گزاری اور اطاعت شعاری کو اپنا نصب العین بنائیں۔
والله المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5198 سے ماخوذ ہے۔