سنن ترمذي
كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ
باب مِنْهُ باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 2598
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ " , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَمَنْ شَكَّ فَلْيَقْرَأْ : إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ سورة النساء آية 40 , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم سے وہ آدمی نکلے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو گا ، ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا : جس کو شک ہو وہ یہ آیت پڑھے «إن الله لا يظلم مثقال ذرة» ” اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے “ ( النساء : ۴۰ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 22 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´ایمان کے باوجود معاصی کا ضرر و نقصان`
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 22]
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 22]
تشریح:
اس حدیث سے صاف ظاہر ہوا کہ جس کسی کے دل میں ایمان کم سے کم ہو گا۔ کسی نہ کسی دن وہ مشیت ایزدی کے تحت اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان پر نجات کا مدار تو ہے۔ مگر اللہ کے یہاں درجات اعمال ہی سے ملیں گے۔ جس قدر اعمال عمدہ اور نیک ہوں گے اس قدر اس کی عزت ہو گی۔
اس سے ظاہر ہوا کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور یہ کہ کچھ لوگ ایمان میں ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض کے قلوب میں ایمان محض ایک رائی کے دانہ برابر ہوتا ہے۔ حدیث نبوی میں اس قدر وضاحت کے بعد بھی جو لوگ جملہ ایمان داروں کا ایمان یکساں مانتے ہیں اور کمی بیشی کے قائل نہیں ان کے اس قول کا خود اندازہ کر لینا چاہئیے۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ووجه مطابقة هذاالحديث للترجمة ظاهر وارادبايراده الرد على المرجئة لما فيه من ضرر المعاصي مع الايمان وعلي المعتزلة فى ان المعاصي موجبة للخلود»
یعنی اس حدیث کی باب سے مطابقت ظاہر ہے اور حضرت مصنف رحمہ اللہ کا یہاں اس حدیث کے لانے سے مقصد مرجیہ کی تردید کرنا ہے۔ اس لیے کہ اس میں ایمان کے باوجود معاصی کا ضرر و نقصان بتلایا گیا ہے اور معتزلہ پر رد ہے جو کہتے ہیں کہ گنہگار لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
اس حدیث سے صاف ظاہر ہوا کہ جس کسی کے دل میں ایمان کم سے کم ہو گا۔ کسی نہ کسی دن وہ مشیت ایزدی کے تحت اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان پر نجات کا مدار تو ہے۔ مگر اللہ کے یہاں درجات اعمال ہی سے ملیں گے۔ جس قدر اعمال عمدہ اور نیک ہوں گے اس قدر اس کی عزت ہو گی۔
اس سے ظاہر ہوا کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور یہ کہ کچھ لوگ ایمان میں ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض کے قلوب میں ایمان محض ایک رائی کے دانہ برابر ہوتا ہے۔ حدیث نبوی میں اس قدر وضاحت کے بعد بھی جو لوگ جملہ ایمان داروں کا ایمان یکساں مانتے ہیں اور کمی بیشی کے قائل نہیں ان کے اس قول کا خود اندازہ کر لینا چاہئیے۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ووجه مطابقة هذاالحديث للترجمة ظاهر وارادبايراده الرد على المرجئة لما فيه من ضرر المعاصي مع الايمان وعلي المعتزلة فى ان المعاصي موجبة للخلود»
یعنی اس حدیث کی باب سے مطابقت ظاہر ہے اور حضرت مصنف رحمہ اللہ کا یہاں اس حدیث کے لانے سے مقصد مرجیہ کی تردید کرنا ہے۔ اس لیے کہ اس میں ایمان کے باوجود معاصی کا ضرر و نقصان بتلایا گیا ہے اور معتزلہ پر رد ہے جو کہتے ہیں کہ گنہگار لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 22 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 22 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´کبیرہ گناہوں کے مرتکب لوگ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے`
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيمَانِ فِي الأَعْمَالِ:: 22]
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/بَابُ تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيمَانِ فِي الأَعْمَالِ:: 22]
تخريج الحديث:
[116۔ البخاري فى: 2 كتاب الإيمان: 15 باب تفاصيل أهل الإيمان فى الأعمال، مسلم 184، ابن حبان 182]
لغوی توضیح:
«صَفْرَاء» زردی مائل۔
«مُلْتَوِيَة» پیچ در پیچ مڑا ہوا۔
فھم الحدیث:
درج بالا احادیث اس بات کا ثبوت ہیں کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب لوگ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے بلکہ جتنا اللہ چاہے گا عذاب پا کر یا تو شفاعت کے ذریعے یا پھر اللہ کی رحمت سے جہنم سے نکال لئے جائیں گے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ مشرک کو کبھی بھی جہنم سے نہیں نکالا جائے اور نہ ہی اسے کوئی شفاعت فائدہ دے گی۔ قرآن کریم میں کفار و مشرکین کے بارے میں ہے کہ: «فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ» [المدثر: 48]
”انہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی۔“
اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ میری شفاعت صرف اسے نصیب ہو گی جو اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا۔ [مسلم: كتاب الايمان: باب اختباء النبى دعوة الشفاعة لامته 199]
[116۔ البخاري فى: 2 كتاب الإيمان: 15 باب تفاصيل أهل الإيمان فى الأعمال، مسلم 184، ابن حبان 182]
لغوی توضیح:
«صَفْرَاء» زردی مائل۔
«مُلْتَوِيَة» پیچ در پیچ مڑا ہوا۔
فھم الحدیث:
درج بالا احادیث اس بات کا ثبوت ہیں کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب لوگ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے بلکہ جتنا اللہ چاہے گا عذاب پا کر یا تو شفاعت کے ذریعے یا پھر اللہ کی رحمت سے جہنم سے نکال لئے جائیں گے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ مشرک کو کبھی بھی جہنم سے نہیں نکالا جائے اور نہ ہی اسے کوئی شفاعت فائدہ دے گی۔ قرآن کریم میں کفار و مشرکین کے بارے میں ہے کہ: «فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ» [المدثر: 48]
”انہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی۔“
اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ میری شفاعت صرف اسے نصیب ہو گی جو اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا۔ [مسلم: كتاب الايمان: باب اختباء النبى دعوة الشفاعة لامته 199]
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 116 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 22 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
22. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ تو ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا جو کہ جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر انہیں پانی یا زندگی کی نہر میں ڈالا جائے گا۔ (راوی حدیث) مالک کو شک ہے (کہ ان کے استاذ نے کون سا لفظ بولا)۔ وہ ازسرنو یوں اگیں گے جیسے دانہ لب جو اگتا ہے۔ کیا تو دیکھتا نہیں وہ کیسے زرد زرد لپٹا ہوا نمودار ہوتا ہے؟‘‘ (عمرو بن یحییٰ مازنی کے شاگرد) وہیب نے (عن عمرو کی جگہ) حدثنا عمرو اور (شک کے بغیر نَهَرِ) الحَيَاةِ کہا ہے، نیز (خردل من إيمان کی بجائے) خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ بیان کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:22]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے وہیب کی روایت بیان کرکے اس شک کو دور کردیا جو مالک کو ہوا، یعنی روایت میں ’’زندگی کی نہر‘‘ صحیح ہے۔
2۔
اس حدیث سے مرجیہ کی تردید مقصود ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ تصدیق کے بعد اعمال کی کوئی حیثیت نہیں۔
اگرواقعی ایسا ہے کہ اعمال کا کوئی اثر نہیں تو گناہگاروں کو اعمال بد کی وجہ سے جہنم میں کیوں دھکیلا گیا؟ اسی طرح خوارج کی تردید ہے۔
ان کا عقیدہ ہے کہ مرتکب کبیرہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے اور اس نے ہمیشہ دوزخ میں رہناہے۔
اگریہ مؤقف صحیح ہے تو حدیث کے مضمون کے مطابق اہل جہنم کو جہنم سے کیوں نکالا گیا؟(شرح الکرماني: 117/1)
3۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل ایمان میں دنیاوی اور اخروی اعتبارسے فرق مراتب ہوگا۔
دنیا میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک شخص کو نیک اعمال کرنے کی توفیق ملتی ہے جبکہ دوسرا اس سے محروم رہتاہے،اخروی اعتبار سے اس طرح کہ جن کے اعمال اونچے درجے کے تھے وہ جہنم سے محفوظ رہ گئے اور جن کے اعمال میں کمی یا کوتاہی تھی انھیں جہنم کی ہوا کھلا کر اس سے نکال لیا جائے گا۔
پھر اس اخراج کے بھی مراتب ہوں گے۔
(الف)
اعمال جوارح کی وجہ سے۔
(ب)
اعمال قلب کی وجہ سے۔
(ج)
آثار ایمان اور انوار ایمان کی وجہ سے۔
(د)
نفس ایمان کی وجہ سے یہ آخری قسم ان لوگوں پر مشتمل ہوگی جن کے پاس عمل اور خیر کاادنیٰ حصہ بھی نہ ہوگا اور ایمان بھی اس قدر دھندلا ہو گا کہ سید الانبیاء علیہ السلام کی عمیق نظر بھی اس کو نہ دیکھ سکے گی۔
اللہ تعالیٰ خود ہی ان لوگوں کو نکالے گا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 454(183)
)
4۔
اہل کفر پر عذاب انتقاماً ہوگا جبکہ اہل ایمان کو اس لیے جہنم میں ڈالا جائے گا تاکہ انھیں گناہوں کے میل کچیل سے صاف کیا جائے۔
اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ انھیں دنیا میں مصائب وآلام سے دوچار کیا جاتا ہے یا سکرات الموت کی تکالیف ان کی تطہیر کا باعث بنتی ہیں۔
اگر گناہ اس سے بھی زیادہ ہوں تو میدان حشر کی ہولناکیوں سے تدارک کیا جاتا ہے۔
اگرمعاصی اس سے بھی زیادہ ہوں تو دوزخ میں ڈال کر انھیں پاک کردیا جائے گا۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے وہیب کی روایت بیان کرکے اس شک کو دور کردیا جو مالک کو ہوا، یعنی روایت میں ’’زندگی کی نہر‘‘ صحیح ہے۔
2۔
اس حدیث سے مرجیہ کی تردید مقصود ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ تصدیق کے بعد اعمال کی کوئی حیثیت نہیں۔
اگرواقعی ایسا ہے کہ اعمال کا کوئی اثر نہیں تو گناہگاروں کو اعمال بد کی وجہ سے جہنم میں کیوں دھکیلا گیا؟ اسی طرح خوارج کی تردید ہے۔
ان کا عقیدہ ہے کہ مرتکب کبیرہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے اور اس نے ہمیشہ دوزخ میں رہناہے۔
اگریہ مؤقف صحیح ہے تو حدیث کے مضمون کے مطابق اہل جہنم کو جہنم سے کیوں نکالا گیا؟(شرح الکرماني: 117/1)
3۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل ایمان میں دنیاوی اور اخروی اعتبارسے فرق مراتب ہوگا۔
دنیا میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک شخص کو نیک اعمال کرنے کی توفیق ملتی ہے جبکہ دوسرا اس سے محروم رہتاہے،اخروی اعتبار سے اس طرح کہ جن کے اعمال اونچے درجے کے تھے وہ جہنم سے محفوظ رہ گئے اور جن کے اعمال میں کمی یا کوتاہی تھی انھیں جہنم کی ہوا کھلا کر اس سے نکال لیا جائے گا۔
پھر اس اخراج کے بھی مراتب ہوں گے۔
(الف)
اعمال جوارح کی وجہ سے۔
(ب)
اعمال قلب کی وجہ سے۔
(ج)
آثار ایمان اور انوار ایمان کی وجہ سے۔
(د)
نفس ایمان کی وجہ سے یہ آخری قسم ان لوگوں پر مشتمل ہوگی جن کے پاس عمل اور خیر کاادنیٰ حصہ بھی نہ ہوگا اور ایمان بھی اس قدر دھندلا ہو گا کہ سید الانبیاء علیہ السلام کی عمیق نظر بھی اس کو نہ دیکھ سکے گی۔
اللہ تعالیٰ خود ہی ان لوگوں کو نکالے گا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 454(183)
)
4۔
اہل کفر پر عذاب انتقاماً ہوگا جبکہ اہل ایمان کو اس لیے جہنم میں ڈالا جائے گا تاکہ انھیں گناہوں کے میل کچیل سے صاف کیا جائے۔
اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ انھیں دنیا میں مصائب وآلام سے دوچار کیا جاتا ہے یا سکرات الموت کی تکالیف ان کی تطہیر کا باعث بنتی ہیں۔
اگر گناہ اس سے بھی زیادہ ہوں تو میدان حشر کی ہولناکیوں سے تدارک کیا جاتا ہے۔
اگرمعاصی اس سے بھی زیادہ ہوں تو دوزخ میں ڈال کر انھیں پاک کردیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 22 سے ماخوذ ہے۔