سنن ترمذي
كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ
باب مِنْهُ باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، يُؤْتَى بِرَجُلٍ فَيَقُولُ : سَلُوا عَنْ صِغَارِ ذُنُوبِهِ وَاخْبَئُوا كِبَارَهَا ، فَيُقَالُ لَهُ : عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً ، قَالَ : فَيَقُولُ : يَا رَبِّ لَقَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ مَا أَرَاهَا هَا هُنَا ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے آدمی کو میں جانتا ہوں ، ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ( فرشتوں سے ) کہے گا : اس سے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کے بارے میں پوچھو اور اس کے بڑے گناہوں کو چھپا دو ، اس سے کہا جائے گا : تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کئے تھے ، تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کیے تھے ؟ “ ، آپ نے فرمایا : ” اس سے کہا جائے گا : تمہارے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی ہے “ ۔ آپ نے فرمایا : ” وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں نے کچھ ایسے بھی گناہ کیے تھے جسے یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں “ ۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے ہوئے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی دانت نظر آنے لگے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔