سنن ترمذي
كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ
باب مِنْهُ باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا فَيَقُولُ : يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيَذْهَبُ لِيَدْخُلَ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ ، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَمَنَّ ، قَالَ : فَيَتَمَنَّى ، فَيُقَالُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَعَشْرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے آدمی کو میں جانتا ہوں ، وہ ایسا آدمی ہو گا جو سرین کے بل چلتے ہوئے نکلے گا اور عرض کرے گا : اے میرے رب ! لوگ جنت کی تمام جگہ لے چکے ہوں گے “ ، آپ نے فرمایا : ” اس سے کہا جائے گا : چلو جنت میں داخل ہو جاؤ “ ، آپ نے فرمایا : ” وہ داخل ہونے کے لیے جائے گا ( جنت کو اس حال میں ) پائے گا کہ لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں ، وہ واپس آ کر عرض کرے گا : اے میرے رب ! لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں ؟ ! “ ، آپ نے فرمایا : ” اس سے کہا جائے گا : کیا وہ دن یاد ہیں جن میں ( دنیا کے اندر ) تھے ؟ “ وہ کہے گا : ہاں ، اس سے کہا جائے گا : ” آرزو کرو “ ، آپ نے فرمایا : ” وہ آرزو کرے گا ، اس سے کہا جائے گا : تمہارے لیے وہ تمام چیزیں جس کی تم نے آرزو کی ہے اور دنیا کے دس گنا ہے “ ۔ آپ نے فرمایا : ” وہ کہے گا : ( اے باری تعالیٰ ! ) آپ مذاق کر رہے ہیں حالانکہ آپ مالک ہیں “ ، ابن مسعود کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی کے دانت نظر آنے لگے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، وہ ایسا آدمی ہو گا جو سرین کے بل چلتے ہوئے نکلے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ جنت کی تمام جگہ لے چکے ہوں گے “، آپ نے فرمایا: ” اس سے کہا جائے گا: چلو جنت میں داخل ہو جاؤ “، آپ نے فرمایا: ” وہ داخل ہونے کے لیے جائے گا (جنت کو اس حال میں) پائے گا کہ لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں، وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں؟! “، آپ نے فرمایا: ” اس سے کہا جائے گا: کیا وہ دن یاد ہیں جن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم/حدیث: 2595]