حدیث نمبر: 2591
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ هُوَ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ ، ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم کی آگ ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہو گئی ، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہو گئی ، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی ، اب وہ سیاہ ہے اور تاریک ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (4320) // ضعيف سنن ابن ماجة (941) ، ضعيف الجامع الصغير نحوه برقم (2125) // , شیخ زبیر علی زئی: (2591) إسناده ضعيف / جه 4320, شريك مدلس وعنعن (تقدم:112), وقال أبو هريرة رضى الله عنه ”أترونها حمراء كنار كم هذه، لهي أسود من القار الزفت“ (الموطأ: 994/2) وسنده صحيح . وحكمه الرفع .
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 38 (4320) ( تحفة الأشراف : 12807) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے کمزور راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4320

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہو گئی، پھر ایک ہزار سال دہکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی، اب وہ سیاہ ہے اور تاریک ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم/حدیث: 2591]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں شریک القاضی حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2591 سے ماخوذ ہے۔