حدیث نمبر: 2578
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ مِثْلُ الرَّبَذَةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَمِثْلُ الرَّبَذَةِ : كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ , وَالرَّبَذَةِ ، وَالْبَيْضَاءُ : جَبَلٌ مِثْلُ أُحُدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی ، اس کی ران بیضاء ( پہاڑ ) جیسی ہو گی اور جہنم کے اندر اس کے بیٹھنے کی جگہ تین میل کی مسافت کے برابر ہو گی جس طرح ربذہ کی دوری ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- «مثل الربذة» کا مطلب ہے کہ جس طرح ربذہ پہاڑ مدینہ سے دور ہے ، ربذہ اور بیضاء احد کی طرح دو پہاڑ ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (3 / 95)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجنة 13 (2851) ( تحفة الأشراف : 13505، و14596) ، و مسند احمد (2/328، 537) (حسن) (الصحیحہ 1105)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2851 | سنن ترمذي: 2577 | سنن ترمذي: 2579

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2851 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" کافرکی ڈاڑھ یا کافر کی کچلی،احد پہاڑ کی مانند ہو گی اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہو گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7185]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جب کافر، دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے کافر کے ہر عضو اور ہر چیز کو خوب موٹا تازہ کرکے اس کی جسامت اور قدکاٹھ میں بہت اضافہ کر دے گا، تاکہ اس کے جسم کے ہر حصہ کو خوب خوب عذاب ہو اور یہ کام اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہےکہ وہ جسم کے حقیقی اور اصلی اجزاء کو پھلا کر ان کا حجم اتنا بڑا کردے کہ ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوجائے اور کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہو جائے اور کھال کے جلنے کے بعد، وہ اس کھال کو دوبارہ لے آئے، جیسا کہ جسم کے گلنے، سڑنے کے بعد یا جلانے کے بعد دوبارہ اس جسم اور انہیں اجزاء کو زندہ کر کے حساب کتاب لے گا اور آج جب بعض خصوصی قسم کے جہاز اوپر بہت بلندی پر جاتے ہیں تو ان کے جسم بہت زیادہ پھول جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2851 سے ماخوذ ہے۔