حدیث نمبر: 2577
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا ، وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ , وَالْمَدِينَةِ " , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کافر کے چمڑے کی موٹائی بیالیس گز ہو گی ، اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2577
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (5675) ، الصحيحة (1105) ، الظلال (610) , شیخ زبیر علی زئی: (2577) إسناده ضعيف, الأعمش مدلس وعنعن (تقدم: 169) وللحديث شواهد عند أحمد (328/3 ،334) وغيره دون قول ”مكة والمدينة“ وهذه اللفظة منكرة والحديث الآتي (الأصل:2578) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12411) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2851 | سنن ترمذي: 2578 | سنن ترمذي: 2579

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2851 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" کافرکی ڈاڑھ یا کافر کی کچلی،احد پہاڑ کی مانند ہو گی اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہو گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7185]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جب کافر، دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے کافر کے ہر عضو اور ہر چیز کو خوب موٹا تازہ کرکے اس کی جسامت اور قدکاٹھ میں بہت اضافہ کر دے گا، تاکہ اس کے جسم کے ہر حصہ کو خوب خوب عذاب ہو اور یہ کام اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہےکہ وہ جسم کے حقیقی اور اصلی اجزاء کو پھلا کر ان کا حجم اتنا بڑا کردے کہ ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوجائے اور کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہو جائے اور کھال کے جلنے کے بعد، وہ اس کھال کو دوبارہ لے آئے، جیسا کہ جسم کے گلنے، سڑنے کے بعد یا جلانے کے بعد دوبارہ اس جسم اور انہیں اجزاء کو زندہ کر کے حساب کتاب لے گا اور آج جب بعض خصوصی قسم کے جہاز اوپر بہت بلندی پر جاتے ہیں تو ان کے جسم بہت زیادہ پھول جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2851 سے ماخوذ ہے۔