حدیث نمبر: 2576
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَتَصَعَّدُ فِيهِ الْكَافِرُ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَيَهْوِي فِيهِ كَذَلِكَ مِنْهُ أَبَدًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے ، اس پر کافر ستر سال میں چڑھے گا اور اتنے ہی سال میں نیچے گرے گا اور یہ عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2576
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5677) // ضعيف الجامع الصغير (3552) وسيأتي (657 / 3561) //
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4063) (ضعیف) (سند میں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3326

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جہنم کی گہرائی کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال میں چڑھے گا اور اتنے ہی سال میں نیچے گرے گا اور یہ عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم/حدیث: 2576]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2576 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3326 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ المدثر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال تک چڑھتا رہے گا پھر وہاں سے لڑھک جائے گا، یہی عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3326]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ ﴿سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا﴾ (المدثر: 17) کی تفسیرمیں لائے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3326 سے ماخوذ ہے۔