حدیث نمبر: 2572
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَتِ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَتِ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ " , قَالَ : هَكَذَا رَوَى يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَوْقُوفًا أَيْضًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے : اے اللہ ! اسے جنت میں داخل کر دے ، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے : اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے ، ۲- یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالك» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2572
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (2478 / التحقيق الثانى) ، التعليق الرغيب (4 / 222)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الاستعاذة 56 (5523) ، سنن ابن ماجہ/الزہد 39 (4340) ( تحفة الأشراف : 243) ، و مسند احمد (3/208) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4340 | سنن نسائي: 5523

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4340 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جنت کے احوال و صفات کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین بار جنت مانگی تو جنت نے کہا: اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما، اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی تو جہنم نے کہا: اے اللہ! اس کو جہنم سے پناہ دے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4340]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دعا تین بار مانگنا مسنون ہے۔

(2)
اللہ سے جنت میں داخلے کی اور جہنم سے پناہ کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔

(3)
جنت اور جہنم اللہ کے حکم کے بغیر کسی کے حق میں دعا نہیں کرتیں اس لیے ان کے دعا کرنے سے معلام ہوتا ھے کہ اللہ تعالی ان کی دعا قبول کرکے اس شخص کو جنت میں داخل کرنا چاہتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4340 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5523 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جہنم کی آگ کی گرمی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جس نے تین بار اللہ تعالیٰ سے جنت مانگی تو جنت کہے گی: اے اللہ! اسے جنت میں داخل کر دے اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی تو جہنم کہے گی: اے اللہ! اسے جہنم سے بچا لے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5523]
اردو حاشہ: جنت جہنم اورآگ وغیرہ اللہ تعالی کی مخلوق ہیں۔ وہ اللہ تعالی سے باتیں کرتی ہیں۔ اللہ تعالی ان سے باتیں فرماتا ہے۔ اس پر کسی کوکوئی اعتراض نہیں ہونا چاہییے اورنہ کوئی تکلیف۔ ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ (بني إسرائیل: 44:17) یہاں حال و قال کی بحث کی ضرورت نہیں۔ یہ خالق ومخلوق کامعاملہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5523 سے ماخوذ ہے۔