سنن ترمذي
كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
باب مِنْهُ باب: ۔۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ أُرَهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَغْبِطُهُمُ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ : رَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَرَجُلٌ يَؤُمُّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ : عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ وَيُقَالُ : ابْنُ قَيْسٍ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے “ ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : ” قیامت کے دن ، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے : ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے ، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے “، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: ” قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2566]
نوٹ:
(سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے، تشیع میں بھی غالی ہے)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1986]
وضاحت: 1 ؎: یعنی اذان دیتاہے۔
نوٹ:
(سند میں أبوالیقظان ضعیف، مختلط اور مدلس راوی ہے، اور تشیع میں بھی غالی ہے)