سنن ترمذي
كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
باب مَا جَاءَ فِي كَلاَمِ الْحُورِ الْعِينِ باب: حورعین کے ترانہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ سورة الروم آية 15 ، قَالَ السَّمَّاعُ : وَمَعْنَى السَّمَّاعِ : مثل ما ورد في الحديث " أَنَّ الْحُورَ الْعِينَ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتِهِنَّ ".ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ : «فهم في روضة يحبرون» ” وہ جنت میں خوش کر دیئے جائیں گے “ کے بارے میں کہتے ہیں : اس سے مراد سماع ہے اور سماع کا مفہوم وہی ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حورعین اپنے نغمے کی آواز بلند کریں گی ۔