سنن ترمذي
كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
باب مَا جَاءَ حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، قَالَ : فَجَاءَهَا وَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ : فَوَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ : وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خِفْتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ ، قَالَ : اذْهَبْ إِلَى النَّارِ ، فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا ، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَقَالَ : وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو پیدا کر چکا تو جبرائیل کو جنت کی طرف بھیجا اور کہا : جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے جو کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے ، اسے جا کر دیکھو “ ، آپ نے فرمایا : ” وہ آئے اور جنت کو اور جنتیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تیار کر رکھا ہے اسے دیکھا : “ آپ نے فرمایا : ” پھر اللہ کے پاس واپس گئے اور عرض کیا : تیری عزت کی قسم ! جو بھی اس کے بارے میں سن لے اس میں ضرور داخل ہو گا ، پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھیر دی گئی ، اور اللہ نے کہا : اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور اس میں جنتیوں کے لیے ہم نے جو تیار کیا ہے اسے دیکھو “ ۔ آپ نے فرمایا : ” جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف دوبارہ گئے تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی تھی چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر آئے اور عرض کیا : مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہو گا ، اللہ نے کہا : جہنم کی طرف جاؤ اور جہنم کو اور جو کچھ جہنمیوں کے لیے میں نے تیار کیا ہے اسے جا کر دیکھو ، ( انہوں نے دیکھا کہ ) اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھ رہا ہے ، وہ اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا : تیری عزت کی قسم ! اس کے بارے میں جو بھی سن لے اس میں داخل نہیں ہو گا ۔ پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ شہوات سے گھیر دی گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے کہا : اس کی طرف دوبارہ جاؤ ، وہ اس کی طرف دوبارہ گئے اور ( واپس آ کر ) عرض کیا : تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی نجات نہیں پائے گا بلکہ اس میں داخل ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ نے جب جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل کو جنت کے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اسے دیکھا اور لوٹ کر آئے تو کہا: قسم ہے تیری عزت اور غلبے کی! ۱؎ جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہوئے بغیر نہ رہے گا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مکروہ ناپسندیدہ چیزوں سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3794]
(2) جبریل علیہ السلام کا قسم کھا کر مندرجہ بالا تبصرے فرمانا ان کا اپنا اندازہ ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے بے شمار بندے جہنم سے دور رہ کر جنت میں داخل ہوں گے اور مکروہات کو لذیذ سمجھ کر اپنائیں گے اور شہوات کو دشمن سمجھ کر ان سے دور رہیں گے۔
(3) جنت اور جہنم کے گرد مکروہات وشہوات کی باڑ لگائی جانی عالم بالا کی ایک حقیقت بھی ہوسکتی ہے اور محض تمثیل بھی کہ مکروہات (مثلاً: نماز‘ روزْ اور جہاد جیسے مشکل کاموں) کو اپنائے بغیر جنت کے لذائذ حاصل نہیں کیے جا سکتے اور شہوات کو اختیار کرنے کا لازمی نتیجہ جہنم کی آگ ہے۔ واللہ أعلم۔
(4) جنت اور جہنم دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور حقیقتاً موجود ہیں‘ معتزلہ کا یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن پیدا کرے گا‘ بالکل درست نہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا، پھر (اللہ نے) اسے مکروہات (ناپسندیدہ) (چیزوں) سے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4744]
1: جنت اور اس کی نعمتیں، دوزخ اور اس کا عذاب فی الواقع پیدا کیے جاچکے ہیں۔
2: جنت کا داخلہ شرعی پابندیوں پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے اور ان کے بالمقابل نفسانی خواہشات کی پیروی اور شرعی پابندیوں سے آزادی جہنم میں جانے کا باعث ہیں، لہذا ضروری ہے کہ انسان نفسانی خواہشات کی پیروی سے دور رہے۔