سنن ترمذي
كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
باب مَا جَاءَ فِي خُلُودِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ باب: جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ : أَلَا يَتْبَعُ كُلُّ إِنْسَانٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُ ، فَيُمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ ، وَلِصَاحِبِ التَّصَاوِيرِ تَصَاوِيرُهُ ، وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ ، فَيَتْبَعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ، وَيَبْقَى الْمُسْلِمُونَ فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ : أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ اللَّهُ رَبُّنَا هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا ، وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ ، ثُمَّ يَتَوَارَى ، ثُمَّ يَطَّلِعُ فَيَقُولُ : أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ اللَّهُ رَبُّنَا وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ ، قَالُوا : وَهَلْ نَرَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ؟ قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ تِلْكَ السَّاعَةَ ، ثُمَّ يَتَوَارَى ، ثُمَّ يَطَّلِعُ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّبِعُونِي ، فَيَقُومُ الْمُسْلِمُونَ وَيُوضَعُ الصِّرَاطُ فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ مِثْلَ جِيَادِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَقَوْلُهُمْ عَلَيْهِ سَلِّمْ سَلِّمْ ، وَيَبْقَى أَهْلُ النَّارِ فَيُطْرَحُ مِنْهُمْ فِيهَا فَوْجٌ ، ثُمَّ يُقَالُ : هَلِ امْتَلَأْتِ ؟ فَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ : هَلِ امْتَلَأْتِ ؟ فَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى إِذَا أُوعِبُوا فِيهَا وَضَعَ الرَّحْمَنُ قَدَمَهُ فِيهَا وَأَزْوَى بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالَ : قَطْ ، قَالَتْ : قَطْ قَطْ ، فَإِذَا أَدْخَلَ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلَ النَّارِ النَّارَ ، قَالَ : أُتِيَ بِالْمَوْتِ مُلَبَّبًا فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ بَيْنَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ يَرْجُونَ الشَّفَاعَةَ ، فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ : قَدْ عَرَفْنَاهُ هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا ، فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِوَايَاتٌ كَثِيرَةٌ مِثْلُ هَذَا مَا يُذْكَرُ فِيهِ أَمْرُ الرُّؤْيَةِ أَنَّ النَّاسَ يَرَوْنَ رَبَّهُمْ ، وَذِكْرُ الْقَدَمِ وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ وَالْمَذْهَبُ فِي هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الْأَئِمَّةِ ، مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَوَكِيعٍ ، وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ رَوَوْا هَذِهِ الْأَشْيَاءَ ، ثُمَّ قَالُوا : تُرْوَى هَذِهِ الْأَحَادِيثُ وَنُؤْمِنُ بِهَا ، وَلَا يُقَالُ : كَيْفَ ؟ وَهَذَا الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ أَنْ تُرْوَى هَذِهِ الْأَشْيَاءُ كَمَا جَاءَتْ ، وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا تُفَسَّرُ وَلَا تُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ ، وَهَذَا أَمْرُ أَهْلِ الْعِلْمِ الَّذِي اخْتَارُوهُ وَذَهَبُوا إِلَيْهِ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ فِي الْحَدِيثِ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ يَعْنِي يَتَجَلَّى لَهُمْ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک وسیع اور ہموار زمین میں جمع کرے گا ، پھر اللہ رب العالمین ان کے سامنے اچانک آئے گا اور کہے گا : کیوں نہیں ہر آدمی اس چیز کے پیچھے چلا جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا ؟ چنانچہ صلیب پوجنے والوں کے سامنے ان کی صلیب کی صورت بن جائے گی ، بت پوجنے والوں کے سامنے بتوں کی صورت بن جائے گی اور آگ پوجنے والوں کے سامنے آگ کی صورت بن جائے گی ، پھر وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور مسلمان ٹھہرے رہیں گے ، پھر رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور کہے گا : تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے ؟ وہ کہیں گے : ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے ، ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور ان کو ثابت قدم رکھے گا اور چھپ جائے گا ، پھر آئے گا اور کہے گا : تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے ؟ وہ کہیں گے : ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، ہمارا رب اللہ ہے اور ہماری جگہ یہی ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں ، اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور انہیں ثابت قدم رکھے گا ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل ہوتی ہے ؟ “ صحابہ نے عرض کیا : نہیں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ کے دیکھنے میں اس وقت کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں کرو گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ چھپ جائے گا پھر جھانکے گا اور ان سے اپنی شناخت کرائے گا ، پھر کہے گا : میں تمہارا رب ہوں ، میرے پیچھے آؤ ، چنانچہ مسلمان کھڑے ہوں گے اور پل صراط قائم کیا جائے گا ، اس پر سے مسلمان تیز رفتار گھوڑے اور سوار کی طرح گزریں گے اور گزرتے ہوئے ان سے یہ کلمات ادا ہوں گے «سلم سلم» ” سلامت رکھ ، سلامت رکھ “ ، صرف جہنمی باقی رہ جائیں گے تو ان میں سے ایک گروہ کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا ، پھر پوچھا جائے گا : کیا تو بھر گئی ؟ جہنم کہے گی : «هل من مزيد» اور زیادہ ، پھر اس میں دوسرا گروہ پھینکا جائے گا اور پوچھا جائے گا : کیا تو بھر گئی ؟ وہ کہے گی : «هل من مزيد» اور زیادہ ، یہاں تک کہ جب تمام لوگ پھینک دیے جائیں گے تو رحمن اس میں اپنا پیر ڈالے گا اور جہنم کا ایک حصہ دوسرے میں سمٹ جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا : بس ۔ جہنم کہے گی : «قط قط» بس ، بس ۔ جب اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کر دے گا ، تو موت کو کھینچتے ہوئے اس دیوار تک لایا جائے گا جو جنت اور جہنم کے درمیان ہے ، پھر کہا جائے گا : اے جنتیو ! تو وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے ، پھر کہا جائے گا : اے جہنمیو ! تو وہ شفاعت کی امید میں خوش ہو کر جھانکیں گے ، پھر جنتیوں اور جہنمیوں سے کہا جائے گا : کیا تم اسے جانتے ہو ؟ تو یہ بھی کہیں گے اور وہ بھی کہیں گے : ہم نے اسے پہچان لیا ، یہ وہی موت ہے جو ہمارے اوپر وکیل تھی ، پھر وہ جنت اور جہنم کی بیچ والی دیوار پر لٹا کر یکبارگی ذبح کر دی جائے گی ، پھر کہا جائے گا : اے جنتیو ! ہمیشہ ( جنت میں ) رہنا ہے موت نہیں آئے گی ۔ اے جہنمیو ! ہمیشہ ( جہنم میں ) رہنا ہے موت نہیں آئے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی بہت سی احادیث مروی ہیں جس میں دیدار الٰہی کا ذکر ہے کہ لوگ اپنے رب کو دیکھیں گے ، قدم اور اسی طرح کی چیزوں کا بھی ذکر ہے ، ۳- اس سلسلے میں ائمہ اہل علم جیسے سفیان ثوری ، مالک بن انس ، ابن مبارک ، ابن عیینہ اور وکیع وغیرہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کی روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ حدیثیں آئی ہیں اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں ، لیکن صفات باری تعالیٰ کی کیفیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جائے گا ، محدثین کا مسلک یہ یہی کہ یہ چیزیں ویسی ہی روایت کی جائیں گی جیسی وارد ہوئی ہیں ، ان کی نہ ( باطل ) تفسیر کی جائے گی نہ اس میں کوئی وہم پیدا کیا جائے گا ، اور نہ ان کی کیفیت وکنہ کے بارے میں پوچھا جائے گا ، اہل علم نے اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور لوگ اسی کی طرف گئے ہیں ، ۴- حدیث کے اندر «فيعرفهم نفسه» کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے تجلی فرمائے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً، وَقَالَ: أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . . .»
". . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مرغوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستی کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ...: 3340]
[120۔ البخاري فى: 65 كتاب التفسير: 17 سورة الإسراء: 5 باب ذرية من حملنا مع نوح 3340، مسلم 194]
لغوی توضیح:
«فَنَهَسَ» دانتوں سے نوچا۔
«صَعِيْد وَاحِد» ایک چٹیل میدان۔
فھم الحدیث: ان احادیث میں شفاعت محمدیہ کا اثبات ہے۔ روز قیامت جب تمام انبیاء اپنی اپنی لغزشوں کو یاد کر کے کانپ رہے ہوں گے اس وقت صرف اور صرف ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی شفاعت کے لیے آگے بڑھیں گے۔ یہ چیز آپ کے تمام انبیاء سے افضل ہونے کی بھی دلیل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حاصل کرنے کے لیے یہ دعا پڑھنی چاہیے «اللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو بھی اذان سن کر یہ دعا پڑھے گا اسے میری شفاعت نصیب ہوگی۔ [بخاري: كتاب الأذان: باب الدعاء عند النداء 614]
جس روایت میں ہے کہ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی، وہ موضوع و من گھڑت ہے۔ [موضوع ارواء الغليل 4؍336 ضعيف الجامع الصغير 5607]
1۔
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ مطلق طور پر تمام کائنات کے سردار ہیں اور قیامت کے دن صرف آپ کی سیادت ظاہر ہوگی۔
تمام انبیاء اور دیگر لوگ آپ کے جھنڈے تلے ہوں گے۔
2۔
اس حدیث میں حضرت نوح ؑ کے متعلق آیا ہے کہ آپ اول الرسل ہیں یعنی اولوالعزم رسولوں میں سے پہلے ہیں جنھیں اللہ کے راستے میں سخت آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا نیز حضرت نوح ؑ وہ پہلے رسول ہیں جو اہل ارض کے لیے مبعوث ہوئے تھے حقیقت کے اعتبار سے حضرت آدم ؑ پہلے رسول ہیں لیکن ان کی رسالت صرف اپنی اولاد تک تھی وہ بھی ان کی تعلیم و تربیت کے لیے تھی اس کے برعکس حضرت نوح ؑ کی رسالت تمام امت کے لیے تھی جو تمام شہروں میں پھیل چکی تھی جبکہ حضرت آدم ؑ کی اولاد صرف ایک شہر تک محدود تھی۔
چونکہ اس روایت میں حضرت نوح ؑ کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیا ہے۔
قرآن کریم میں ان کا تذکرہ متعدد مرتبہ آیا ہے۔
حمیر سے صنعاء خیبر یمن کا پایئہ تخت مراد ہے بصرٰی سام کے ملک میں ہے۔
حدیث میں حضرت نوح ؑ کا ذکر ہے یہی باب سے مطابقت ہے۔
اس حدیث میں شفاعت کبریٰ کا ذکر ہے جس کا شرف سیدناو مولانا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوگا۔
باب اور آیت میں مطابقت حضرت نوح کے ذکر سے ہے جہاں یا نوحُ إنكَ أولُ الرُسُلِ إلی أھل الأرض۔
الفاظ مذکور ہیں۔
حضرت آدمؑ کے بعد عام رسالت کا مقام حضرت نوح ؑ کو حاصل ہوا۔
آپ کو آدم ثانی بھی کہا گیا ہے۔
کیونکہ طوفان نوح کے بعد انسانی نسل کے مورث اعلیٰ صرف آپ ہی ہیں۔
آپ کے چار بیٹے ہوئے جن میں سام کی نسل سے عرب فارس ہند وغیرہ ہیں اور یافث کی نسل سے روس ترک چین جاپان وغیرہ ہیں اور ھام کی نسل سے حبش اور اکثر افریقہ والے اور نوح کی نسل سے رٹرز فرانس جرمن آسٹریلیا اٹالیا اور مصر و یونان وغیرہ ہیں۔
اسی حقیقت کے پیش نظرآپ کو اول الرسل کہا گیا ہے۔
ورنہ آپ سے پہلے اور بھی کئی نبی ہو چکے ہیں مگر وہ عام رسول نہیں تھے۔
روایت میں ابراہیم ؑ سے منسوب تین جھوٹ یہ ہیں۔
پہلا جبکہ بت پرستوں کے تہوار میں عدم شرکت کے لئے لفظ ﴿إني سَقِیم﴾ (الصافات: 89)
استعمال کئے اور بت شکنی کا معاملہ بڑے بت پر ڈالتے ہوئے کہا ﴿بَل فَعَلَهُ کَبیرُھُم ھَذَا﴾ (الأنبیاء: 63)
استعمال کئے اور بت شکنی کا معاملہ بڑے بت پر ڈالتے ہیں اور سارہ کو اپنی بہن کہا اگرچہ یہ ظاہر اً جھوٹ نظر آتے ہیں مگر حقیقت کے لحاظ سے یہ جھوٹ نہ تھے پھر یہ ذات باری غنی اور صمد سے ہے وہ معمولی کام پر بھی گرفت کر سکتا ہے۔
اسی لئے حضرت ابراہیم ؑ نے اس موقع پر اظہار معذرت فرمایا۔
(صلی اللہ علیهم أجمعین)
انی سقیم میں بیمار ہوں اسلئے میں تمہارے ساتھ تمہاری تقریب میں چلنے سے معذور ہوں۔
آپ بظاہر تندرست تھے۔
مگر آپ کے دل میں ان کی نازیبا حرکتوں کا سخت صدمہ تھا اور مسلسل صدمات سے انسان کی طبیعت ناساز ہونا بعید نہیں ہے۔
لہٰذا حضرت ابراہیم ؑ کا ایسا کہنا جھوٹ نہ تھا۔
بت شکنی کا معاملہ بڑے بت پر بطور استہزاء ڈالا تھا تاکہ مشرکین خود اپنی حماقت کا احساس کرسکیں۔
قرآن مجید کے بیان کا سیاق وسباق بتلا رہا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کا یہ کہنا صرف اس لئے تھا تاکہ مشرکین خوداپنی زبان سے اپنے معبودان باطلہ کی کمزوری کا اعتراف کر لیں چنانچہ انہوں نے کیا۔
جس پر حضرت ابراہیم ؑ نے ان سے کہا کہ اف لکم ولما تعبدون من دون اللہ صد افسوس تم پر اور تمہارے معبودان باطلہ پر جن کو تم کمزور کہتے ہو، معبود بنائے بیٹھے ہو۔
بیوی کو بہن کہنا دینی لحاظ سے تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں وہ ہی ایک عورت ذات تھی جو ایسے نازک وقت میں حضرت ابراہیم ؑ کے ہم مذہب تھیں۔
بہر حال یہ تنیوں امور بظاہر جھوٹ نظر آتے ہیں مگر حقیقت کے لحاظ سے جھوٹ بالکل نہیں ہیں اور انبیاء کرامؑ کی ذات اس سے بالکل بری ہوتی ہے کہ ان سے جھوٹ صادر ہو۔
(صلی اللہ علیهم أجمعین)
1۔
اس حدیث میں حضرت نوح ؑ کے متعلق صراحت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے۔
عنوان میں ذکر کردہ آیت میں حضرت نوحؑ کی اس صفت کا حوالہ تھا۔
عنوان اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
2۔
علامہ عینی ؒ نے مفسرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت نوح ؑ جب کھانا کھاتے تو کہتے تھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا، اگروہ چاہتا تو مجھے بھوکا رکھتا۔
جب پانی پیتے تو کہتے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے پانی پلایا، اگر وہ چاہتا تو مجھے پیاسا رکھتا۔
جب لباس پہنتے تو کہتے: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے لباس پہنایا، اگر وہ چاہتا تو مجھے برہنہ رکھتا۔
جب جوتا پہنتے تو کہتے: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے جوتا پہنچایا، اگر وہ چاہتا تو مجھے ننگے پاؤں رکھتا۔
جب قضائے حاجت سے فارغ ہوتے تو کہتے! اللہ کا شکر ہے جس نے اذیت سے نجات دی اور مجھے صحت سے نوازا، اگر وہ چاہتا تو اسے روک لیتا۔
اس شکر گزاری کی وجہ سے آپ کو عبدالشکور کا لقب دیا گیا ہے۔
(عمدة القاری: 114/13)
حدیث کے متعلق دیگر مباحث کتاب احادیث الانبیاء میں گزر چکے ہیں۔
کہ قیامت کے دن وہ ان کو بخشوالیں گے۔
مقلدین ائمہ اربعہ میں سے اکثر جہال کا یہی خیال ہے کہ ان کے امام ان کی بخشش کے ذمہ دار ہیں، ایسے ناقص خیالات سے ہر مسلمان کو بچنا بہت ضروری ہے۔
1۔
عنوان سابق میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا خلیل بنایا،اس حدیث میں اس کی وضاحت فرمائی کہ لوگ بھی قیامت کے دن اس بات کی گواہی دیں گے کہ واقعی آپ اللہ کے خلیل ہیں۔
2۔
حضرت انس ؓ کی متابعت کو امام بخاری ؒ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
اس کے الفاظ ہیں کہ حضرت نوح ؑ لوگوں سے کہیں گے: تم حضرت ابراہیمؑ کے پاس جاؤ جوخلیل الرحمٰن ہیں۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7440)
اس حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کے خلیل اللہ ہونے کا ذکرہے، اور عنوان بھی اسی سے متعلق ہے۔
واللہ أعلم۔
: (1)
فَنَهَسَ: دانت سے کاٹنا۔
(2)
صَعِيد: کھلی اور ہموار زمین۔
(3)
يَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ: نظر تمام انسانوں کا احاطہ کرے گی، دیکھنے والے سے کوئی اوجھل نہیں ہو گا۔
(4)
مَصَارِيعٌ: مِصْراعٌ کی جمع ہے، دروازے کے پٹ۔
ہجر اور بصری: دو قدیمی معروف شہر ہیں، جن کے درمیان کافی مسافت ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
سید اس شخصیت کوکہتےہیں، جو سب سے برتر اورفائق ہو، اورگھبراہٹ وپریشانی میں لوگ اس کی پناہ میں آئیں۔
قیامت کوتمام انسان، آدمؑ سےلےکر آخری فرد تک آپ کی جھنڈےتلےہوں گے، اورآپ سےسفارش کےطالب ہوں گے، اس لیے آپ ﷺ نےتحدیث نعمت کے طور پر فرمایا: ’’کہ میں قیامت کوتمام انسانوں کاسردارہوں گا۔
‘‘ (2)
آپ ﷺنے دنیا میں اس بات کا اظہار فرمایاہے، کہ شفاعت کبریٰ کا اہل میں ہوں اورکوئی رسول اس کام کےلیے آمادہ نہ ہوگا۔
قیامت کے روز آپ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق لوگ تدریجاً آپ کےپاس پہنچیں گے، آپ کی امت کاکوئی فردبھی یہ مشورہ نہ دے سکے گا، کہ سفارش تو آخری رسول کی قبول ہونی ہے، چلو اس کےپاس چلیں، تا کہ عملاً آپ ﷺ کی فضیلت وبرتری کا سب انسانوں کےسامنےظہورہوسکے۔
(3)
انبیاءؑ کے بیان کردہ عذرمعاف ہوچکےہیں، کیونکہ ان میں سےکسی سےقصور و کوتاہی شعوری طورپرسرزدنہیں ہوگی، اس کےباوجود، انہوں نے توبہ واستغفار کا ورد جاری رکھا، لیکن قیامت کی وحشت اور ہولناکی کی بنا پر وہ ان معاف شدہ باتوں کویادکر کے سفارش کرنےسےمعذرت کااظہارفرمائیں گے۔
(4)
اللہ تعالیٰ صفتِ غضب سےمتصف ہے، لیکن اس کی کیفیت کوبیان کرناممکن نہیں ہے، اس لیےکسی قسم کی تاویل وتعطیل کی ضرورت نہیں ہے۔
(5)
اس حدیث میں حضرت ابراہیمؑ نےتین کذبات بولنے کی بنا پر سفارش سےمعذرت کا اظہارفرمایا ہے، عربی زبان میں علامہ انباری کے بقول (کذب)
کالفظ پانچ معانی کےلیے استعمال ہوتاہے۔
علامہ انباری نے مثالیں بھی دی ہیں، تفصیل کے لیے دیکھئے تاج العروس: (1/449) (1)
جھوٹ۔
(2)
چوک جانا۔
(3)
آرزو اور امید کا خاک میں ملنا۔
(4)
کسی کو دھوکا میں رکھنا۔
(5)
توریہ وتعریض سے کام لینا۔
یعنی ایساقول جو بظاہر خلاف واقعہ نظر آتا ہے، لیکن اگرغورو فکر سے کام لیا جائے، تو وہ بالکل واقعہ کےمطابق ہوتا ہے۔
جن واقعات کوحضرت ابراہیمؑ نے کذبات سےتعبیرکیا ہے، تو ان میں تینوں اقوال بظاہر خلافِ واقعہ نظرآتےہیں، لیکن اگرغور کیا جائے تو وہ تینوں اقوال بالکل واقعہ کےمطابق ہیں، یہ حضرت ابراہیمؑ کی شان کی رفعت وبلندی ہے، کہ انہوں نے توریہ وتعریض کوبھی جو بالکل جائز اور درست ہے، اپنی شان رفیع سے فروتر سمجھا، اور ان کو کذب سےتعبیرکیا۔
(6)
احادیث صحیحہ میں شفاعت کبریٰ جو تمام انسانوں کے حساب وکتاب شروع کرنے کے لیے ہوگی، کا تذکرہ موجودنہیں ہے، بلکہ آپ کی امت کے گناہ گاروں کی سفارش کا ذکرہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سفارش کبریٰ کا اسلام کا نام لیوا فرقوں میں سےکوئی فرقہ منکر نہیں ہے، جبکہ گناہ گاروں کی سفارش کا خوارج اورمعتزلہ وغیرہما نے انکارکیا ہے، اس لیے گناہ گاروں کی سفارش کےلیے احادیث کے بیان پر زور دیا گیا، اورمتفقہ سفارش کے تذکرہ کونظر اندازکردیا گیا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: " قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہو گا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کر س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2434]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ کی اس شفاعت کا بیان ہے جب سارے انبیاء اپنی اپنی بعض لغزشوں کے حوالے سے شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے، چونکہ انبیاء علیہم السلام ایمان و تقوی کے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں، اس لیے ان کی معمولی غلطی بھی انہیں بڑی غلطی محسوس ہوتی ہے، اسی وجہ سے وہ بار گاہ الٰہی میں پیش ہونے سے معذرت کریں گے، لیکن نبی اکرم ﷺ اللہ کے حکم سے سفارش فرمائیں گے، اس سے آپ ﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، آپ کی شفاعت مختلف مرحلوں میں ہوگی، آپ اپنی امت کے حق میں شفاعت فرمائیں گے، جو مختلف مرحلوں میں ہوگی، اس حدیث میں پہلے مرحلہ کا ذکر ہے، جس میں آپ کی شفاعت پر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنت میں لے جانے کی اجازت دے گا جن پر حساب نہیں ہوگا۔