حدیث نمبر: 2546
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ، ثَمَانُونَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ " " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ : عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَحَدِيثُ أَبِي سِنَانٍ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ حَسَنٌ ، وَأَبُو سِنَانٍ اسْمُهُ : ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ ، وَأَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ اسْمُهُ : سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ بَصْرِيٌّ ، وَأَبُو سِنَانٍ الشَّامِيُّ اسْمُهُ : عِيسَى بْنُ سِنَانٍ هُوَ الْقَسْمَلِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جس میں سے اسّی صفیں اس امت کی اور چالیس دوسری امتوں کی ہو گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- یہ حدیث «عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے ، ۳- بعض لوگوں نے سند یوں بیان کی ہے : «عن سليمان بن بريدة عن أبيه» ، ۴- ابوسنان کی حدیث جو محارب بن دثار کے واسطہ سے مروی ہے ، حسن ہے ، ۵- ابوسنان کا نام ضرار بن مرۃ ہے اور ابوسنان شیبانی کا نام سعید بن سنان ہے ، یہ بصریٰ ہیں ، ۶ - اور ابوسنان شامی کا نام عیسیٰ بن سنان ہے ، اور یہ قسم لی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2546
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4289)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 34 (4289) ( تحفة الأشراف : 1938) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4289

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4289 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´امت محمدیہ کی صفات۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4289]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
۔
دوسری حدیث میں ہے کہ تمھارے مقابلے میں دوسروں کی تعداد ایسے ہوگی جیسے سفید بیل پر ایک سیاہ بال (حدیث: 4283)
یہ موازنہ مشرکین سے ہے۔
اور دوتہائی تعداد صرف اہل جنت کے مقابلے میں ہے۔

(2)
اس سے امت محمدیہ کا شرف ظاہر ہے۔
تاہم نجات کے لئے صرف امتی ہونا کافی نہیں بلکہ صحیح ایمان اور صحیح عمل بھی ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4289 سے ماخوذ ہے۔