سنن ترمذي
كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَيْلِ الْجَنَّةِ باب: جنت کے گھوڑوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ وَاصِلٍ هُوَ ابْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ أَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ أُدْخِلْتَ الْجَنَّةَ أُتِيتَ بِفَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ لَهُ جَنَاحَانِ فَحُمِلْتَ عَلَيْهِ ثُمَّ طَارَ بِكَ حَيْثُ شِئْتَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ، وَلَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَبُو سَوْرَةَ هُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ جِدًّا ، قَالَ : وَسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ : أَبُو سَوْرَةَ هَذَا مُنْكَرُ الْحَدِيثِ يَرْوِي مَنَاكِيرَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا .´ابوایوب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے گھوڑا پسند ہے ، کیا جنت میں گھوڑے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم جنت میں داخل کئے گئے تو تمہیں یاقوت کا گھوڑا دیا جائے گا ، اس کے دو پر ہوں گے تم اس پر سوار کئے جاؤ گے پھر جہاں چاہو گے وہ تمہیں لے کر اڑے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ۔ ہم اسے ابوایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- ابوسورۃ ، ابوایوب کے بھتیجے ہیں ۔ یہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ۔ انہیں یحییٰ بن معین نے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے ، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : ابوسورۃ منکر حدیث ہیں ، یہ ابوایوب رضی الله عنہ سے ایسی کئی منکر احادیث روایت کرتے ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔