سنن ترمذي
كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ باب: جنتیوں کے لباس کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ سورة الواقعة آية 34 , قَالَ : " ارْتِفَاعُهَا لَكَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مَسِيرَةَ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ : إِنَّ مَعْنَاهُ الْفُرُشَ فِي الدَّرَجَاتِ وَبَيْنَ الدَّرَجَاتِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» ( الواقعۃ : ۳۴ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ” جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے : اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے ، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» (الواقعۃ: ۳۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: " جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت۔" [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2540]
نوٹ:
(سند میں دراج ابو السمح اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» " جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے " (الواقعہ: ۳۴)، کے سلسلے میں فرمایا: " ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے۔" [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3294]
وضاحت:
1؎:
جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے (الواقعہ: 34)