سنن ترمذي
كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
باب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ باب: جنتیوں کے لباس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2540
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ سورة الواقعة آية 34 , قَالَ : " ارْتِفَاعُهَا لَكَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مَسِيرَةَ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ : إِنَّ مَعْنَاهُ الْفُرُشَ فِي الدَّرَجَاتِ وَبَيْنَ الدَّرَجَاتِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» ( الواقعۃ : ۳۴ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ” جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے : اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے ، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2540
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5634)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3294
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جنتیوں کے لباس کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» (الواقعۃ: ۳۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ” جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2540]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» (الواقعۃ: ۳۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ” جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2540]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں دراج ابو السمح اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں دراج ابو السمح اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2540 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3294 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الواقعہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ” جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے “ (الواقعہ: ۳۴)، کے سلسلے میں فرمایا: ” ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3294]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ” جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے “ (الواقعہ: ۳۴)، کے سلسلے میں فرمایا: ” ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3294]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے (الواقعہ: 34)
وضاحت:
1؎:
جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے (الواقعہ: 34)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3294 سے ماخوذ ہے۔