حدیث نمبر: 2527
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا ، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هِيَ لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ ، وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَهُوَ كُوفِيٌّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق الْقُرَشِيُّ مَدَنِيٌّ وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا “ ۔ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے ، کھانا کھلائے ، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن اسحاق کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے ، یہ کوفی ہیں اور عبدالرحمٰن بن اسحاق جو قریشی ہیں وہ مدینہ کے رہنے والے ہیں اور یہ عبدالرحمٰن کوفی سے اثبت ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، التعليق الرغيب (2 / 46) ، المشكاة (1233) , شیخ زبیر علی زئی: (2527) إسناده ضعيف / تقدم:1984
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 1984 (حسن لغیرہ) (دیکھیے مذکورہ حدیث کے تحت اس پر بحث)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جنت کے کمروں کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا۔‏‏‏‏ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2527]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(دیکھیے: مذکورہ حدیث کے تحت اس پر بحث)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2527 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3243 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3243. حضرت عبد اللہ بن قیس اشعری ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جنت میں خیمے کی حقیقت یہ ہےکہ وہ ایک خولدارموتی ہوگا جو اوپر کو تیس میل تک بلند ہوگا۔ اس کے ہر کونے میں مومن کی بیویاں ہوں گی۔ جسے دوسرے اہل جنت نہیں دیکھ سکیں گے۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا:)’’اس کی بلندی ساٹھ میل ہو گی۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3243]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت میں عورتیں جو حوروں اور دنیاوی بیویوں پر مشتمل ہوں گی وہ مردوں سے زیادہ ہیں۔
ابو الدرداء ؓسے مروی ہے کہ جنت کا خیمہ جو ایک خولد ار موتی سے ہو گا اس کے ستر دروازے ہوں گی۔
(الزھد لابن المبارك، ص: 487، طبع دارالکتب العلمیة)
خیمے کے لفظ سے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے۔
(حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ)
’’وہاں خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں ہوں گی۔
‘‘ (الرحمٰن: 55۔
72)
چنانچہ امام بخاری ؒنے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے ہے اس میں صراحت ہے کہ وہ خولدار موتی کا خیمہ ساٹھ میل بلند ہو گا۔
(صحیح البخاري، التفسیر: حدیث4879)

امام بخاری ؒ نے جنت کی صفات ذکر کی ہیں کہ وہاں خیمے اس قسم کے ہوں گے جو ایک ہی موتی سے تیار شدہ ہیں۔
بہر حال اہل جنت کو جنت میں محلات ملیں گے۔
غالباً یہ خیمے دوران سفر میں استعمال کے لیے ہوں گے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3243 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2838 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبد اللہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جنت میں مومن کا خولدار موتی کا ایک خیمہ ہو گا جس کا عرض ساٹھ میل ہو گا ہر کونے میں اس کے اہل ہوں گے، جو دوسروں کو دیکھ نہیں سکیں گے، مومن ان کا چکر لگائے گا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7159]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جنت میں مومن کا خیمہ ساٹھ میل لمبا اور ساٹھ میل چوڑا اور ساٹھ میں اونچا ہوگا یعنی طول، عرض اور عمق برابر ہوں گے اور ہر کونے میں اس کے اہل ہوں گے، اگر اہل سے مراد بیوی ہے تو معنی ہوگا ہر جنتی کی دو سے زائد بیویاں ہوں گی، اس لیے قاضی، عیاض اور حافظ ابن حجر وغیرہ کا یہ نظریہ ہے کہ ہر جنتی کی دو بیویاں، دنیا کی عورتوں سے ہوں گی اور باقی جنت کی عورتوں سے ہوں گی، یا پھر اس سے مراد متعلقین خدم و حشم ہوں گے اور بیویاں صاف گو ہوں گی۔
کیونکہ بقول حافظ ابن قیم، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے سوا، دو سے زائد بیویوں کی کوئی روایت بھی صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2838 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7444 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7444. سیدنا عبداللہ بن قیس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: دو جنتیں ایسی ہوں گی جو خود ان کے برتن اور ان کا تمام سازو کے برتن اور ان کا تمام سازو سامان سونے کا ہوگا۔ اور جنت عدن میں اہل جنت اور اللہ کے دیدار کے درمیان صرف کبریائی کی چادر حائل ہوگی جو ذات باری تعالیٰ کے چہرےپر ہوگی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7444]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوکہ جب پروردگار کو منظور ہوگا اس کبریائی کی چادر کو اپنے منہ سے ہٹا دے گا اورجنتی اس کے دیدار سےمشرف ہوں گا۔
یہ بھی معلوم ہو کہ جنت عدن تمام حجابوں کے پرے ہے۔
جنت العدن میں جب آدمی پہنچ گیا تواس نےسارے حجابوں کوطے کرلیا۔
اللہ پاک ہم سب کو ہمارے ماں باپ آل واولاد اور تمام قارئیں بخاری شریف کو جنت العدن کا داخلہ نصیب کرے آمین یارب العالمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7444 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7444 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7444. سیدنا عبداللہ بن قیس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: دو جنتیں ایسی ہوں گی جو خود ان کے برتن اور ان کا تمام سازو کے برتن اور ان کا تمام سازو سامان سونے کا ہوگا۔ اور جنت عدن میں اہل جنت اور اللہ کے دیدار کے درمیان صرف کبریائی کی چادر حائل ہوگی جو ذات باری تعالیٰ کے چہرےپر ہوگی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7444]
حدیث حاشیہ:

ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں جنت کے متعلق بتائیں وہ کس چیز سے بنائی گئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کی کچھ اینٹیں سونے کی اور کچھ چاندی کی ہیں۔
اس کا گارا بہترین کستوری کا، اس کی کنکریاں قیمتی جواہرات اور اس کی مٹی زعفران کی ہے‘‘ (جامع الترمذي، صفة الجنة، حدیث: 2526)
یہ حدیث پیش کردہ حدیث کے بظاہر معارض ہے۔
اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ پہلی حدیث میں جنت کے برتنوں وغیرہ کا ذکر ہے جبکہ دوسری حدیث میں اس کی تعمیر اور دیواروں کا بیان ہے۔
(فتح الباري: 533/13)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کے آگے کبریائی کی چادر ہے۔
وہ جب چاہے گا کہ اپنے بندوں کو دیدار سے مشرف کرے اس چادر کو منہ سے ہٹا دے گا، پھر اہل جنت اپنے رب سے محودیدار ہوں گے، جبکہ بعض عقل پرست حضرات ان نورانی پردوں کا انکار کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کبریائی کی چادر متشابہات میں سے ہے کیونکہ درحقیقت وہاں نہ کوئی چادر ہے اور نہ کوئی چہرہ ہی اس لیے اس کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا جائے یا وجه کی تاویل ذات سے کی جائے رداء يعنی چادر اس ذات کی صفت ہے جو مخلوقات کی مشابہت سے پاک صاف ہے۔
(فتح الباري: 534/13)
لیکن یہ تفویض یا تاویل ظاہر نصوص کے خلاف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اہل عرب سے زیادہ فصیح تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو ظاہر مفہوم سے پھیر کر کوئی دوسرا معنی لینا فصاحت وبلاغت کے خلاف ہے۔
پھر ظاہر مفہوم سے ہٹ کر کوئی دوسرامفہوم مراد لینے کی دلیل چاہیے، جبکہ ہمارے اسلاف نے اسے ظاہر معنی پر محمول کیا جائے اور اسے مبنی برحقیقت تسلیم کیا ہے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 161/2)
واضح رہے کہ جنت عدن میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بہت قریب سے ہوگا۔
صرف نورانی پردے ہٹانے سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوسکے گا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7444 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4878 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´جنت کے باغ`
«. . . قَالَ:" جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (جنت میں) دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں چاندی کی ہوں گی اور دو دوسرے باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں سونے کے ہوں گے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/بَابُ قَوْلِهِ: {وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ: 4878]
تخريج الحديث:
[113۔ البخاري فى: 65 كتاب التفسير: 1 باب قوله ومن دونهما جنتان 4878 مسلم 180]
لغوی توضیح:
«جَنَّتَان» کی واحد «جَنَّة» ہے، معنی ہے باغ۔
«آنِيَتُهُمَا» ان کے برتن۔
«رِدَاء» چادر۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 113 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4878 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4878. حضرت عبداللہ بن قیس (ابو موسٰی اشعری) ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دو باغ چاندی کے ہیں۔ ان دونوں کے برتن اور ان کا دیگر ساز و سامان چاندی کا ہو گا۔ اور دوسرے دو باغ سونے کے ہیں۔ ان کے برتن اور دیگر ساز و سامان بھی سونے کا ہو گا۔ اور جنت عدن میں اہل جنت اور ان کے رب کے دیدار میں کوئی چیز حائل نہیں ہو گی، ہاں! رب کبریاء کے چہرے پر کبریائی کی چادر ضرور ہو گی۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4878]
حدیث حاشیہ: یا اللہ! قیامت کے دن ہم سب کو اپنے دیدار پر انوار سے مشرف فرمائیو۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4878 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4878 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4878. حضرت عبداللہ بن قیس (ابو موسٰی اشعری) ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دو باغ چاندی کے ہیں۔ ان دونوں کے برتن اور ان کا دیگر ساز و سامان چاندی کا ہو گا۔ اور دوسرے دو باغ سونے کے ہیں۔ ان کے برتن اور دیگر ساز و سامان بھی سونے کا ہو گا۔ اور جنت عدن میں اہل جنت اور ان کے رب کے دیدار میں کوئی چیز حائل نہیں ہو گی، ہاں! رب کبریاء کے چہرے پر کبریائی کی چادر ضرور ہو گی۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4878]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں باغات کی اقسام بیان کی گئی ہیں کہ دو باغ تو اعلیٰ قسم کے ہوں گے اور دو باغ ان سے کچھ کم درجے کے ہوں گے۔
یہ اقسام اہل جنت کے درجات کےفرق کی بنیاد پر ہیں۔
مقربین اور سابقین کے لیے سونے کے دو باغ اور عام اہل ایمان کے لیے چاندی دو باغ ہوں گے۔

روئیت باری، یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار کے متعلق بحث کتاب التوحید میں آئے گی، إن شاء اللہ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کے دن جنت میں اپنا دیدار نصیب فرمائے۔
آمین یارب العالمین۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4878 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 180 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن قیس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا: ’’دو جنتیں ایسی ہیں، کہ ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے چاندی کے ہوں گے۔ اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہوں گے۔ لوگوں اور ان کے رب کی جنت عدن میں رویت کے درمیان اس کے چہرے پر عظمت و بڑائی کی چادر کے سوا کوئی چیز حائل نہیں ہو گی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:448]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
صحابہ کرامؓ اور سلف امت کے نزدیک، آخرت میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔
اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے عظمت وکبریائی کا پردہ اٹھائے گا، متکلمین کی طرح اسمیں کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔
کہ وہ کسی جہت یا مکان میں نہیں ہوگا، اس طرح سے وجہ سے مراد ذات ہے درست نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا اور وہ اوپر ہوگا، قرآن وحدیث دونوں سے دیدار الہٰی ثابت ہے، معتزلہ، خوارج اور بعض مرجئہ نے رویت کا انکار کیا ہے، اور انکار میں وہی چیزیں پیش کی ہیں (جن)
کی متکلمین نے بلاوجہ تاویل کی ہے۔
وہ کہتے ہیں: نہ اس کا جسم ہے، نہ اس کا کوئی رنگ ہے، نہ کوئی مکان اورجہت ہے، پھر اس کو کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔
اورمتکلمین بھی اس انکار میں ان کے ہمنوا ہیں اور کہتے ہیں: جس طرح وہ مخلوق کو ان چیزوں سے پاک ہونے کے باوجود دیکھتا ہے اس طرح مخلوق بھی اس کو دیکھے گی۔
صحابہ کرامؓ، سلف امت اور محدثینؒ کے نزدیک اللہ تعالیٰ عرش پر ہے، اس کے لیے جہت علو اور فوقیت ثابت ہے، اور اس کی آنکھیں، چہرہ، ہاتھ وغیرہ جس کا احادیث میں تذکرہ آیا ہے موجود ہیں، لیکن مخلوق کے لیے یہ چیزیں ان کی حیثیت اورشان کے مطابق ہیں، اورخالق کے لیے اس کے شایان شان ہیں، جس طرح وہ اپنی ذات صفات میں بے مثال ہے، اس طرح ان چیزوں میں بھی بے مثال ہے۔
جس طرح اس کی حقیقت وماہیت کو نہیں جانا جا سکتا، اس طرح ان چیزوں کی حقیقت وماہیت اور کیفیت کو نہیں جاتا سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 180 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 186 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔`
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی جو دیدار سے مانع ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 186]
اردو حاشہ: (1)
اس حدیث میں دیدار الہی کا اثبات ہے۔

(2)
اہل جنت جب جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ کی زیارت ہو سکے گی۔
صرف اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی چادر دیدار سے مانع ہو گی۔
جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و فضل کا اظہار کرے گا تو وہ مانع دور اور دیدار کا شرف حاصل ہو جائے گا۔

(3)
اللہ تعالیٰ کے چہرہ اقدس پر کبریائی کی چادر ہو گی۔
اس امر کو یوں ہی تسلیم کرنا ہو گا، تاویل کی ضرورت نہیں، ورنہ انکار لازم آئے گا۔

(4)
جنت کی نعمتیں بے شمار اور بے مثال ہیں۔
قرآن و حدیث میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ صرف اس حد تک ہے جس قدر انسان سمجھ سکیں۔
جنت کی چاندی اور سونا بھی دنیا کی چاندی اور سونے کی طرح نہیں، بلکہ اس قدر عمدہ اور اعلیٰ ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

(5)
ان جنتوں کی چیزیں سونے چاندی کی ہوں گی، مثلا: برتن، پلنگ، تخت، اور درخت وغیرہ۔
واللہ أعلم.
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 186 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1984 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´معروف (بھلی بات) کہنے کی فضیلت کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا ، (یہ سن کر) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1984]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
خوش کلامی، کثرت سے روزے رکھنا، اور رات میں جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں اللہ کے لیے نماز پڑھنی یہ ایسے اعمال ہیں جو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والے ہیں، شرط یہ ہے کہ یہ سب اعمال ریاکاری اور دکھاوے سے خالی ہوں۔

نوٹ:
(سند میں عبد الرحمن بن اسحاق واسطی سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1984 سے ماخوذ ہے۔