سنن ترمذي
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
باب مِنْهُ باب: ۔۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، مَا حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ " وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ، قَالَ : وَأَبُو الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ : رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوالحوراء شیبان سعدی کہتے ہیں کہ` میں نے حسن بن علی رضی الله عنہما سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا چیز یاد کی ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ ” اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے ، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے ، اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے “ ۱؎ ، اور اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ابوالحوراء سعدی کا نام ربیعہ بن شیبان ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوالحوراء شیبان سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی الله عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا چیز یاد کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ ” اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے، اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے “ ۱؎، اور اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2518]
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ شک و شبہ والی چیزوں سے اجتناب کرو، اور جس پر قلبی اطمینان ہو، اس پرعمل کرو، سچائی کو اپنا شعار بناؤ کیوں کہ اس سے قلبی اطمینان اور سکون حاصل ہوتاہے، جب کہ جھوٹ سے دل بے قرار اور پریشان رہتا ہے۔
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھے آپ کی یہ بات یاد ہے: جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ کرو جس میں شک نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5714]