حدیث نمبر: 2508
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ هُوَ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ : إِنَّمَا يَعْنِي الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ ، وَقَوْلُهُ : الْحَالِقَةُ يَقُولُ : إِنَّهَا تَحْلِقُ الدِّينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آپسی پھوٹ اور بغض و عداوت کی برائی سے اجتناب کرو کیونکہ یہ ( دین کو ) مونڈنے والی ہے ۱؎ ، آپسی پھوٹ کی برائی سے مراد آپس کی عداوت اور بغض و حسد ہے اور «الحالقة» مونڈنے والی سے مراد دین کو مونڈنے والی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپسی بغض و عداوت اور انتشار و افتراق سے اجتناب کرنا چاہیئے، کیونکہ اس سے نہ یہ کہ صرف دنیا تباہ ہوتی ہے بلکہ دین بھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2508
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (5041 / التحقيق الثانى)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12998) (حسن)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپسی پھوٹ اور بغض و عداوت کی برائی سے اجتناب کرو کیونکہ یہ (دین کو) مونڈنے والی ہے ۱؎، آپسی پھوٹ کی برائی سے مراد آپس کی عداوت اور بغض و حسد ہے اور «الحالقة» مونڈنے والی سے مراد دین کو مونڈنے والی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2508]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ا س حدیث سے معلوم ہواکہ آپسی بغض وعداوت اور انتشار و افتراق سے اجتناب کرنا چاہیے، کیوں کہ اس سے نہ یہ کہ صرف دنیا تباہ ہوتی ہے بلکہ دین بھی ہاتھ سے جاتا رہتاہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2508 سے ماخوذ ہے۔