حدیث نمبر: 2506
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَذَّاءُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُظْهِرِ الشَّمَاتَةَ لِأَخِيكَ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ وَيَبْتَلِيكَ " , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَمَكْحُولٌ ، قَدْ سَمِعَ مِنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ ، وَيُقَالُ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ ، وَمَكْحُولٌ شَامِيٌّ يُكْنَى : أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ عَبْدًا فَأُعْتِقَ ، وَمَكْحُولٌ الْأَزْدِيُّ بَصْرِيٌّ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَرْوِي عَنْهُ عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ عَطِيَّةَ ، قَالَ : كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ مَكْحُولًا يُسْئِلُ فَيَقُولُ نَدَانَمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعداء نہ کرو ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- مکحول کا سماع واثلہ بن اسقع ، انس بن مالک اور ابوھند داری سے ثابت ہے ، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا سماع ان تینوں صحابہ کے علاوہ کسی سے ثابت نہیں ہے ، ۳- یہ مکحول شامی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے ، یہ ایک غلام تھے بعد میں انہیں آزاد کر دیا گیا تھا ، ۴- اور ایک مکحول ازدی بصریٰ بھی ہیں ان کا سماع عبداللہ بن عمر سے ثابت ہے ان سے عمارہ بن زاذان روایت کرتے ہیں ۔ اس سند سے مکحول شامی کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ «ندانم» ( میں نہیں جانتا ) کہتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2506
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (4856 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6245) // , شیخ زبیر علی زئی: (2506) إسناده ضعيف, القاسم بن أمية بن القاسم وثقه جماعة وضعفه جماعة وكان يروي عن حفص بن غياث مناكير، كما قال ابن حبان وأقره ابن الجوزي فى الضعفاء والمتروكين (13/3ت 2741) وهذا جرح خاص مقدم و قول مكحول : ”ندانم“ سنده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11749) (ضعیف) (سند میں حفص بن غیاث اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعداء نہ کرو، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2506]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حفص بن غیاث اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2506 سے ماخوذ ہے۔