حدیث نمبر: 2504
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " , هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ابوموسیٰ کی روایت سے اس سند سے صحیح غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: زبان سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کسی مسلمان کی طعن و تشنیع، غیبت چغل خوری، بہتان تراشی نہ کرے، نہ ہی اسے گالی گلوج دے، اور ہاتھ سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے نہ کسی کو مارے، نہ قتل کرے، نہ ناحق کسی کی کوئی چیز توڑے، اور نہ ہی باطل افکار پر مشتمل کوئی تحریر لکھے جس سے کہ لوگ گمراہ ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2504
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الإیمان 5 (11) ، صحیح مسلم/الإیمان 14 (42) ، سنن النسائی/الإیمان 11 (5002) ( تحفة الأشراف : 9041) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 11 | صحيح مسلم: 42 | سنن ترمذي: 2628 | سنن نسائي: 5002

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2504]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: زبان سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کسی مسلمان کی طعن وتشنیع، غیبت چغلخوری، بہتان تراشی نہ کرے، نہ ہی اسے گالی گلوج دے، اور ہاتھ سے محفوظ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے نہ کسی کو مارے، نہ قتل کرے، نہ ناحق کسی کی کوئی چیز توڑے، اور نہ ہی باطل افکار پر مشتمل کوئی تحریر لکھے جس سے کہ لوگ گمراہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2504 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 11 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´حقیقت کے لحاظ سے ایمان اور اسلام ایک ہی ہیں`
«. . . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ . . .»
. . . لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 11]
تشریح:
چونکہ حقیقت کے لحاظ سے ایمان اور اسلام ایک ہی ہیں، اس لیے «اي الاسلام افضل» کے سوال سے معلوم ہوا کہ ایمان کم و بیش ہوتا ہے۔ افضل کے مقابلہ پر ادنیٰ ہے۔ پس اسلام ایمان، اعمال صالحہ و اخلاق پاکیزہ کے لحاظ سے کم و زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی حضرت امام کا یہاں مقصد ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 11 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 11 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
11. حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا (صاحب) اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:11]
حدیث حاشیہ:

’’اَيُّ‘‘ کا مضاف الیہ وہ چیز ہوتی ہے جس میں تعدد ہولیکن اسلام مفرد ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں حذف مضاف ہے۔
اصل عبارت کو ہم نے ترجمہ کرتے وقت ظاہر کردیا ہے۔
یعنی(اَيُّ صَاحِبِ الاِسلَامِ اَفضَلُ)
گویا سوال ذات سے متعلق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جواب بھی ذات سے دیا جا رہا ہے۔
اس كی تائید ایک دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’کون سامسلمان افضل ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 163(42)
ایسا کرنے سے سوال وجواب میں مطابقت ہوجاتی ہے۔

صحیح مسلم کی اسی روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے والے خود راوی حدیث حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا سوال حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمیر بن قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کیا تھا۔
ان روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہ کبھی انھوں نے نام کی صراحت کردی اور کبھی اس سوال کو دوسرے لوگوں کی طرف منسوب کیا کیونکہ وہ اس سوال سے متفق تھے اورکسی سے متفق ہونا گویا خود اس کا سوال کرنا ہے۔
(فتح الباري: 77/1)

اس روایت سے پہلی حدیث کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ حصر باعتبار حقیقت کے ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حصر باعتبار حقیقت کے نہیں بلکہ کمال کے لحاظ سے ہے، یعنی مسلمانوں کے مراتب میں فرق ہے کچھ اکمل ہیں اور کچھ کامل ہیں، یعنی وہ مسلمان جو دیگراسلامی شعائر کے ساتھ روایت میں ذکرکردہ وصف کا بھی حامل ہو، وہ افضل اوراکمل ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 11 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5002 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5002]
اردو حاشہ: اس باب سے مصنف رح کا مقصود یہ ہے کہ سب مسلمان اسلام وایمان میں برابر نہیں ہو تے بلکہ کسی کا اسلام وایمان زیادہ ہوتا ہے،کسی کا کم۔ اور یہ کمی بیشی اعمال کے لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور قلبی کیفیت کے لحاظ سے بھی۔کو ن سا اسلام افضل ہے مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام میں سے کون افضل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5002 سے ماخوذ ہے۔