حدیث نمبر: 2492
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ ، فَيُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمَّى بُولَسَ تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ ، يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” متکبر ( گھمنڈ کرنے والے ) لوگوں کو قیامت کے دن میدان حشر میں چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورتوں میں لایا جائے گا ، انہیں ہر جگہ ذلت ڈھانپے رہے گی ، پھر وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے کی طرف ہنکائے جائیں گے جس کا نام «بولس» ہے ۔ اس میں انہیں بھڑکتی ہوئی آگ ابالے گی ، وہ اس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیں گے جسے «طينة الخبال» کہتے ہیں ، یعنی سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2492
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (5112 / التحقيق الثانى) ، التعليق الرغيب (4 / 18)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : 8800) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 609

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 609 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
609- سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو انسانوں کی شکل میں، چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں، کرکے زندہ کیا جاۓ گاہر چھوٹی چیز بھی ان سے بڑی ہوگی (یا ان کے اوپر سے گزر جاۓ گی) پھر انہیں ہانک کر جہنم میں موجود قید خانے کی طرف لے جایا جاۓ گا۔ جس کا نام بولس ہے ان پر لکڑیوں کی آگ غالب آجاۓ گی۔ اور انہیں طینت الخبال یعنی اہل جہنم (کے خون اور پیب وغیرہ) کا نچوڑ پلایا جاۓ گا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:609]
فائدہ:
اس حدیث میں تکبر کی مذمت بیان کی گئی ہے، ہر وہ شخص متکبر ہے جو حق کوٹھکراتا ہے اور لوگوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ متکبر کے لیے جہنم میں ایک جیل تیار کی گئی ہے جس کا نام بولس ہے، اللہ رب العالمین کسی انسان پر مہربانی کرتے ہوئے اپنا خاص کرم فرمادیں تو اسے بہت زیادہ عاجز بن جانا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے، لیکن افسوس کہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعام کے بعد وہ اللہ تعالیٰ ہی کی بغاوت پر اتر آتا ہے، اس کے نتیجے میں روز قیامت متکبر کو چیونٹی کی مثل جسم دیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے محفوظ فرمائے آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 609 سے ماخوذ ہے۔