حدیث نمبر: 2484
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ : جَاءَ سَائِلٌ فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِلسَّائِلِ : أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَتَصُومُ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : سَأَلْتَ وَلِلسَّائِلِ حَقٌّ إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْنَا أَنْ نَصِلَكَ ، فَأَعْطَاهُ ثَوْبًا , ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا إِلَّا كَانَ فِي حِفْظِ مِنَ اللَّهِ مَا دَامَ مِنْهُ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ " , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حصین کہتے ہیں کہ` ایک سائل نے آ کر ابن عباس رضی الله عنہما سے کچھ مانگا تو ابن عباس نے سائل سے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے کہا : کیا تم رمضان کے روزے رکھتے ہو ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے کہا : تم نے سوال کیا اور سائل کا حق ہوتا ہے ، بیشک ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں ، چنانچہ انہوں نے اسے ایک کپڑا دیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کو کوئی کپڑا پہناتا ہے تو وہ اللہ کی امان میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی اس پر باقی رہتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2484
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (1920) ، التعليق الرغيب (3 / 112) // ضعيف الجامع الصغير (5217) // , شیخ زبیر علی زئی: (2484) إسناده ضعيف, حصين اختلط وتلميذه خالد بن طهمان اختلط قبل موتة بعشر سنين (الكواكب النيرات ص 23 ،28) وانظر التقريب (1369 ،1644)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5409) (ضعیف) (سند میں خالد بن طہمان مختلط ہو گئے تھے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
حصین کہتے ہیں کہ ایک سائل نے آ کر ابن عباس رضی الله عنہما سے کچھ مانگا تو ابن عباس نے سائل سے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: تم نے سوال کیا اور سائل کا حق ہوتا ہے، بیشک ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں، چنانچہ انہوں نے اسے ایک کپڑا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو کوئی مسلمان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2484]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں خالد بن طہمان مختلط ہوگئے تھے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2484 سے ماخوذ ہے۔