حدیث نمبر: 2479
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصَابَتْنَا السَّمَاءُ لَحَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ كَانَ ثِيَابَهُمُ الصُّوفُ فَإِذَا أَصَابَهُمُ الْمَطَرُ يَجِيءُ مِنْ ثِيَابِهِمْ رِيحُ الضَّأْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے کہا : اے میرے بیٹے ! اگر تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نصیب ہوتی تھی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ۲- اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کے کپڑے اون کے ہوتے تھے ، جب اس پر بارش کا پانی پڑتا تو اس سے بھیڑ کی جیسی بو آنے لگتی تھی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس وقت اون کا کپڑا موٹا جھوٹا ہوتا تھا، جیسا گڈریوں کا ہوتا ہے، آج کل کا قیمتی اونی کپڑا مراد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2479
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3562) , شیخ زبیر علی زئی: (2479) إسناده ضعيف / د 4033، جه 3562
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ اللباس 6 (4033) ، سنن ابن ماجہ/اللباس 4 (3562) ( تحفة الأشراف : 9126) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اگر تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نصیب ہوتی تھی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2479]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: اس وقت اون کا کپڑا موٹا جھوٹا ہوتاتھا، جیسا گڈریوں کا ہوتا ہے، آج کل کا قیمتی اونی کپڑا مراد نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2479 سے ماخوذ ہے۔