حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْخَثْعَمِيُّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ الْخَثْعَمِيَّةِ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ ، وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدَى وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلَى ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهَا وَلَهَا وَنَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلَى ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ عَتَا وَطَغَى وَنَسِيَ الْمُبْتَدَا وَالْمُنْتَهَى ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبُهَاتِ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهُ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهُ ، بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” برا ہے وہ بندہ جو تکبر کرے اور اترائے اور اللہ بزرگ و برتر کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو مظلوموں پر قہر ڈھائے اور ظلم و زیادتی کرے اور اللہ جبار برتر کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو لہو و لعب میں مشغول ہو اور قبروں اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو حد سے آگے بڑھ جائے اور سرکشی کا راستہ اپنائے اور اپنی پیدائش اور موت کو بھول جائے ، اور برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کو طلب کرے ، اور برا ہے وہ بندہ جو اپنے دین کو شبہات سے ملائے ، اور برا ہے وہ بندہ جسے لالچ اپنی طرف کھینچ لے ، اور برا ہے وہ بندہ جسے اس کا ہوائے نفسانی گمراہ کر دے اور برا ہے وہ بندہ جسے حرص ذلیل و رسوا کر دے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5115 / التحقيق الثاني) ، الضعيفة (2026) ، الظلال (9 و 10) // ضعيف الجامع الصغير (2350) // , شیخ زبیر علی زئی: (2448) إسناده ضعيف, زيد الخثعمي: مجهول وتلميذه هاشم بن سعيد : ضعيف (تق: 2147 ،7254)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15755) (ضعیف) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دین سے دوری کی برائی کا بیان۔`
اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: برا ہے وہ بندہ جو تکبر کرے اور اترائے اور اللہ بزرگ و برتر کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو مظلوموں پر قہر ڈھائے اور ظلم و زیادتی کرے اور اللہ جبار برتر کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو لہو و لعب میں مشغول ہو اور قبروں اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو حد سے آگے بڑھ جائے اور سرکشی کا راستہ اپنائے اور اپنی پیدائش اور موت کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کو طلب کرے، اور برا ہے وہ بندہ جو اپنے دین۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2448]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2448 سے ماخوذ ہے۔