سنن ترمذي
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
باب مِنْهُ باب: قیامت کے دن شفاعت پر ایک اور حدیث۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ كُوفِيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَمُرُّ بِالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَمَعَهُمُ الْقَوْمُ وَالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَمَعَهُمُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَلَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ بِسَوَادٍ عَظِيمٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قِيلَ : مُوسَى وَقَوْمُهُ ، وَلَكَنِ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَانْظُرْ ، قَالَ : فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ مِنْ ذَا الْجَانِبِ وَمِنْ ذَا الْجَانِبِ ، فَقِيلَ : هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَسِوَى هَؤُلَاءِ مِنْ أُمَّتِكَ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَدَخَلَ ، وَلَمْ يَسْأَلُوهُ وَلَمْ يُفَسِّرْ لَهُمْ ، فَقَالُوا : نَحْنُ هُمْ ، وَقَالَ قَائِلُونَ : هُمْ أَبْنَاؤُنَا الَّذِينَ وُلِدُوا عَلَى الْفِطْرَةِ وَالْإِسْلَامِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ ؟ فَقَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وفي الباب عن ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کا ایک نبی اور کئی نبیوں کے پاس سے گزر ہوا ، ان میں سے کسی نبی کے ساتھ ان کی پوری امت تھی ، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی ، کسی کے ساتھ کوئی نہ تھا ، یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک بڑے گروہ سے ہوا ، تو آپ نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ کہا گیا : یہ موسیٰ اور ان کی قوم ہے ، آپ اپنے سر کو بلند کیجئے اور دیکھئیے : تو یکایک میں نے ایک بہت بڑا گروہ دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو اس جانب سے اس جانب تک گھیر رکھا تھا ، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس کے سوا آپ کی امت میں ستر ہزار اور ہیں جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور لوگ آپ سے اس کی بابت نہیں پوچھ سکے اور نہ ہی آپ نے ان کے سامنے اس کی تفسیر بیان کی ، چنانچہ ان میں سے بعض صحابہ نے کہا : شاید وہ ہم ہی لوگ ہوں اور بعض نے کہا : شاید ہماری وہ اولاد ہیں جو فطرت اسلام پر پیدا ہوئیں ۔ لوگ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے اور فرمایا : ” یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ بدن پر داغ لگواتے ہیں اور نہ جھاڑ پھونک اور منتر کرواتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں ، وہ صرف اپنے رب پر توکل و اعتماد کرتے ہیں “ ، اسی اثناء میں عکاشہ بن محصن رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، ( تم بھی انہی میں سے ہو ) پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” عکاشہ نے تم پر سبقت حاصل کر لی “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کا ایک نبی اور کئی نبیوں کے پاس سے گزر ہوا، ان میں سے کسی نبی کے ساتھ ان کی پوری امت تھی، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی، کسی کے ساتھ کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک بڑے گروہ سے ہوا، تو آپ نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ موسیٰ اور ان کی قوم ہے، آپ اپنے سر کو بلند کیجئے اور دیکھئیے: تو یکایک میں نے ایک بہت بڑا گروہ دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو اس جانب سے اس جانب تک گھیر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس کے سوا آپ ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2446]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے ان لوگوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جو اللہ پر اعتماد، بھروسہ اور توکل کرتے ہیں، جھاڑ پھونک اور بدشگونی وغیرہ سے بھی بچتے ہیں باوجود یکہ مسنون دعاؤں کے ساتھ دم کرنا اور علاج معالجہ کرنا جائز ہے یہ اللہ رب العالمین پراعتمادوتوکل کی اعلی مثال ہے۔
«. . . فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بدفالی نہیں کرتے، نہ منتر سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/بَابُ مَنْ لَمْ يَرْقِ: 5752]
[131۔ البخاري فى: 76 كتاب الطب: 42 باب من لم يرق 3410، مسلم 220، ابن ماجه 6430]
لغوی توضیح:
«لَا يَتَطَيَّرُوْنَ» وہ بدشگونی نہیں پکڑتے۔
«لَا يَسْتَرْقُوْنَ» وہ دم طلب نہیں کرتے، حالانکہ دم کرنا اور کرانا جائز ہے جب تک کہ شرکیہ امور پر مشتمل نہ ہو۔ [مسلم: كتاب السلام: باب لا بأس بالرقي ما لم يكن فيه شرك 2200]
لیکن وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر کمال توکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جائز چیز کو بھی ترک کر دیتے ہیں۔
«وَلَا يَكْتَوُوْنَ» وہ داغ نہیں لگواتے۔ یہ علاج کا ایک طریقہ تھا کہ جسم میں درد کے مقام پر گرم لوہے کی سلاخ سے داغ لگایا جاتا تھا۔ یہ کام اب جائز نہیں کیونکہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا ہے۔ [بخاري: كتاب الطب 5680، ابن ماجه 3491، مسند أحمد 245/2]
ستر ہزار کا ان اربوں میں کیا شمار۔
بہر حال امت محمدی تمام امتوں سے زیادہ ہوگی اور آپ اپنی امت کی یہ کثرت دیکھ کر فخر کریں گے۔
یا اللہ! آپ کی سچی امت میں ہمارا بھی حشر فرمائیو اور آپ کا حوض کوثر پر دیدار نصیب کیجیو آمین یا رب العالمین۔
(1)
عنوان میں دم نہ کرنے والوں کو فضیلت تھی جبکہ حدیث میں دم نہ کرانے والوں کا ذکر ہے، شاید امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے سعید بن جبیر کے حوالے سے بیان کیا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ ایسے لوگ ہوں گے جو نہ خود دم کرتے ہیں اور نہ کسی دوسرے ہی سے دم کرنے کی درخواست کرتے ہیں، نہ وہ بدشگونی لیتے ہیں بلکہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 527 (220)
یعنی حساب کے بغیر جنت میں جانے والے وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے مکمل طور پر خود کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا ہو گا۔
وہ اپنی تکالیف کو دور کرنے کے لیے کسی قسم کے اسباب و ذرائع تلاش نہیں کریں گے۔
(2)
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں برتری اور فضیلت حاصل ہو گی کیونکہ علاج معالجہ چھوڑ کر توکل اختیار کرنا بھی حدیث سے ثابت ہے۔
حدیث میں ہے کہ ایک عورت کو مرگی کی تکلیف تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ’’اگر تم صبر کرو تو تمہارے لیے جنت ہے اور اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں وہ تمہیں شفا عطا فرما دے گا۔
‘‘ اس نے کہا: میں اس بیماری پر صبر کرتی ہوں۔
(صحیح البخاري، المرض، حدیث: 5652)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوا اور علاج کرنا تو آپ کا یہ فعل ہمارے لیے علاج کے اسباب اختیار کرنے کے لیے جواز کی دلیل ہے۔
اس مقام پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بہت عمدہ بحث کی ہے۔
(فتح الباري: 231/10)
1۔
بہت بڑی جماعت کو سواد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی امت کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کی امت تمام انبیاء ؑ کی امتوں سے زیادہ ہوگی۔
امام بخاری ؒ نے متصل طور پر یہ روایت کتاب الطب میں بیان کی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’ایک نبی ایسا بھی سامنے آئے گا۔
جس کے ساتھ کوئی امتی نہیں ہو گا۔
‘‘ موسیٰ ؑ کی امت کے بعدآپ اپنی امت کو دیکھیں گے جو تمام امتوں سے زیادہ ہوگی۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5705)
2۔
اس حدیث میں حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی امت کا ذکر ہے جو قیامت کے دن پیش کی جائے گی۔
اس لیے امام بخاری ؒ نے مذکورہ عنوان کے تحت اسے بیان فرمایا۔
(1)
ایک روایت میں ہے: ''وہ آگ سے داغ دے کر اپنا علاج نہیں کریں گے۔
'' (صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5705)
بعض حضرات نے اس حدیث سے یہ مفہوم کشید کیا ہے کہ وہ خوش قسمت حضرات اسباب کا استعمال کر کے اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے ہوں گے۔
امام بخاری رحمہ اللہ ان کی تردید کرنا چاہتے ہیں کہ اگر حدیث کا یہ مقصد ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی صراحت فرما دیتے لیکن اس حدیث میں صرف تین چیزوں کا ذکر ہے: آگ سے داغ دے کر علاج کروانا۔
دم کا مطالبہ کرنا اور بدشگونی لینا۔
(2)
یہ اسباب خود شریعت میں ممنوع ہیں تو حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بندے وہ ہوں گے جو اپنے مقاصد اور ضروریات میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسا کرنے کی وجہ سے ان اسباب کو استعمال نہیں کرتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، اس لیے مطلقاً اسباب کو ترک کرنا حدیث کا مقصد نہیں ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی حدیث کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔
(حجة اللہ البالغة: 92/2) (3)
اس حدیث کو صرف پیش گوئی پر ہی محمول نہ کیا جائے بلکہ حدیث کا اصل منشا یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگی کو معیاری توکل والی زندگی بنانے کی کوشش کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جنت میں بے حساب جانے والوں کی فہرست میں ان کا نام آ جائے۔
اللهم اجعلنا منهم۔
آمين يا رب العالمين
جنگ بدر میں ان کی تلوار ٹوٹ گئی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک چھڑی دے دی جو ان کے ہاتھ میں تلوار ہوگئی۔
بعد کی لڑائیوں میں بھی شریک رہے۔
فضلائے صحابہ میں سے تھے جو خلافت صدیقی میں بعمر48 سال فوت ہوگئے۔
حضرت ابن عباس، حضرت ابوہریرہ اور ان کی بہن ام قیس رضی اللہ عنہا ان سے روایت کرتے ہیں۔
سند میں حضرت سعید بن جبیر کا نام آیا ہے۔
جنہیں حجاج بن یوسف نے شعبان95ھ میں ظلم و جور سے قتل کیا تھا۔
سعید بن جبیر کی بددعا سے کچھ دنوں بعد ہی حجاج کا اس بری طرح خاتمہ ہوا کہ وہ لوگوں کے لیے عبرت بن گیا۔
جیسا کہ کتب تواریخ میں مفصل حالات مطالعہ کیے جا سکتے ہیں۔
ہم نے بھی کچھ تفصیل کسی جگہ پیش کی ہے۔
من شاء فلینطر إلیه۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب جنت میں جائیں گے۔“ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں سے بنا دے۔“ پھر دوسرے شخص نے عرض کیا: اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ اس میں تم پر بازی لے گیا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 28]
ایک حدیث میں ہے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میری امت سے ستر ہزار افراد کو وہ بلا حساب اور عذاب، جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور ہر ہزار کے ساتھ (مزید) ستر ہزار آدمی جنت میں داخل فرمائے گا اور تین لپ بھرے ہوئے میرے رب کے اور بھی جنت میں داخل ہوں گے۔ [سنن ترمذي۔ ابواب صفة القيامه۔ باب ماجاء في الشفاعة]
مذکورہ حدیث سے اُمت محمدیہ کی فضیلت واضح ہے کہ انچاس لاکھ ستر ہزار افراد بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ بعض روایات میں ہے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ بالا روایت سنا کر گھر تشریف لے گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں ان ستر ہزار کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے، بعض نے کہا: یہ وہ ہوں گے جو اسلام پر پیدا ہوئے اور انہوں نے شرک نہیں کیا۔ بعض نے کہا: جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہوا ہے یہ وہ لوگ ہیں۔ جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی مختلف آراء کا اظہار کیا۔
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ ہیں: «لَا يكتُوونَ وَلَا يَستَرِقونَ وَلايَتطَيَّرُونَ وَ علٰي رَبِّهِم يَتَوَكَلُونَ .» [صحيح بخاري: رقم: 6541]
”جو داغ نہیں لگواتے، دم جھاڑ نہیں کرواتے، شگون نہیں لیتے، اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ مذکورہ حدیث مبارکہ میں بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہونے والوں کی نمایاں صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ شرک کی کسی بھی قسم میں مبتلا نہیں ہوتے اور ان کا دم، داغ پر بھروسہ نہیں ہوتا بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہیں کہ اس دوائی دم میں تب شفا ہو گی جب اللہ ذوالجلال نے دی یعنی اللہ پر پختہ یقین ہونا چاہئے۔ مذکورہ حدیث سے سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بھی اثبات ہے کہ وہ قطعی طور پر بغیر حساب و کتاب جنت میں جائیں گے۔ جو دوسرے صحابی کھڑے ہوئے۔ وہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے تو فرمایا: ”عکاشہ اس میں تم پر بازی لے گیا“ مطلب یہ کہ وہ قبولیت کی گھڑی تھی جو اب نکل چکی ہے۔