حدیث نمبر: 2445
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ ؟ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ مُصْحِيَةٍ مِنْ آنِيَةِ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عُمَانَ إِلَى أَيْلَةَ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وفي الباب عن حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ ، وَالْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حوض کوثر کے برتن کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً اس کے برتن تاروں سے بھی زیادہ ہیں اس تاریک رات میں جس میں آسمان سے بادل چھٹ گیا ہو ، اور اس کے پیالے جنت کے برتنوں میں سے ہوں گے ، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا ، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے ، اس کا فاصلہ اتنا ہے جتنا عمان سے ایلہ تک کا فاصلہ ہے ۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ۲- اس باب میں حذیفہ بن یمان ، عبداللہ بن عمرو ، ابوبرزہ اسلمی ، ابن عمر ، حارثہ بن وہب اور مستورد بن شداد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے حوض کا فاصلہ اتنا ہے جتنا کوفہ سے حجر اسود تک کا فاصلہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2445
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الظلال (721)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2300

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2300 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! حوض کے برتن کتنے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس کے برتن سیاہ رات جس میں بادل نہ ہوں، کے نجوم و کواکب (ستارے و سیارے) کی تعداد سے زیادہ ہیں وہ جنت کے برتن ہوں گے جو ان سے پیے گا آخر تک پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت کے دو پر نالے بہیں گے، جو اس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5989]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عمان: یہ آج کل اردن کا دارالحکومت ہے، جسے عمان بلقاء کہتے ہیں، اگر عمان ہو تو یہ خلیج کا شہر ہے اور مسقط کا دارالحکومت ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو ترجیح دی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2300 سے ماخوذ ہے۔