سنن ترمذي
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
باب مَا جَاءَ فِي شَأْنِ الصُّورِ باب: صور کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْإِذْنَ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ " ، فَكَأَنَّ ذَلِكَ ثَقُلَ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ : قُولُوا : " حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کیسے آرام کروں جب کہ صور والے اسرافیل علیہ السلام «صور» کو منہ میں لیے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے ، گویا یہ امر صحابہ کرام رضی الله عنہم پر سخت گزرا ، تو آپ نے فرمایا : ” کہو : «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» یعنی ” اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- یہ حدیث عطیہ سے کئی سندوں سے ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں کیسے آرام کروں جب کہ صور والے اسرافیل علیہ السلام «صور» کو منہ میں لیے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے، گویا یہ امر صحابہ کرام رضی الله عنہم پر سخت گزرا، تو آپ نے فرمایا: ” کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» یعنی ” اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2431]
نوٹ:
(سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: 1079)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے، مسلمانوں نے کہا: ہم (ایسے موقعوں پر) کیا کہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا وربما» ” ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے “ راوی کہتے ہیں: کبھی کبھی سفیان نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3243]
وضاحت:
1؎:
مؤلف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الأَرْضِ﴾ (الزمر: 68) کی تفسیرمیں ذکرکی ہے۔
نوٹ:
(سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک «صور» والے دونوں فرشتے اپنے ہاتھوں میں «صور» ۱؎ لیے برابر دیکھتے رہتے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4273]
فوائد و مسائل:
(1)
صور(نرسنگا)
ایک قسم کا بگل ہوتا تھا۔
جو کسی جانور کے سینگ سے بنایا جاتا تھا۔
(2)
مذکورہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم قرآن مجید میں صور پھونکنے کی بابت یہ ارشاد الٰہی ہے۔
جس کامفہوم یہ ہے۔
’’اور صور میں پھونکا جائے گا۔
تو جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔
وہ بے ہوش ہوجائے گا۔
سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔
پھر اس میں دوسری بار پھونکا جائے گا۔
تو وہ یکایک کھڑے ہوکردیکھنے لگیں گے۔‘‘ (الزمر: 39، 68)
(3)
صور کی حقیقت وکیفیت سے اللہ ہی باخبر ہے۔
ہمیں جتنی بات بتائی گئی ہے اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
اس سے ثابت ہوا کہ صور کا پھونکا جاناحق ہے، جس فرشتے نے صور پھونکنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ﴾ (الانعام 73)
”جس دن صور میں پھونکا جائے گا“۔
ہمارا ایمان ہے کہ صور میں دو بار پھونکا جائے گا پہلی بار پھونکے جانے سے تمام زندہ لوگ فوت ہو جائیں گے۔ دوسری بار پھونکے جانے سے تمام مردہ زندہ ہو جائیں گے۔