حدیث نمبر: 2430
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا الصُّورُ ؟ قَالَ : " قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا : «صور» کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک سنکھ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- کئی لوگوں نے سلیمان تیمی سے اس حدیث کی روایت کی ہے ، اسے ہم صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1080)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ السنة 24 (4742) ( تحفة الأشراف : 8608) ، و مسند احمد (2/162، 192) ، وسنن الدارمی/الرقاق 79 (2840) ، ویأتي عند المؤلف في تفسیر سورة القیامة (3339) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3244 | سنن ابي داود: 4742

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3244 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک سینگ (بھوپو) ہے جس میں پھونکا جائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3244]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تو آواز گونجتی اور دور تک جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3244 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4742 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صور» ایک سنکھ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4742]
فوائد ومسائل:
حضرت اسرافیل ؑ اپنے منہ میں صور لیے امرالہٰی کے منتظرکھڑے ہیں، جب حکم ہو گا تو وہ اس میں پھونک ماریں گے اورساری دنیا فنا ہو جائے گی، پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ پھونکیں گے تو سب جی اٹھیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4742 سے ماخوذ ہے۔