حدیث نمبر: 2429
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا سورة الزلزلة آية 4 , قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا ؟ " , قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ أَخْبَارَهَا : أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا ، أَنْ تَقُولَ عَمِلَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ : «يومئذ تحدث أخبارها» کی تلاوت کی اور فرمایا : ” کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کی خبریں کیا ہوں گی ؟ “ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے خلاف گواہی دے گی ، جو کام بھی انہوں نے زمین پر کیا ہو گا ، وہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کام کیا “ ، آپ نے فرمایا : ” یہی اس کی خبریں ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد // وسيأتي (664 / 3591) // , شیخ زبیر علی زئی: (2429) إسناده ضعيف / يأتي: 3353, يحيي بن أبى سليمان : ضعفه الجمهور (د 893)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف و أعادہ في تفسیر إذا زلزلت (3353) ( تحفة الأشراف : 13076) (ضعیف الإسناد) (سند میں یحییٰ بن ابی سلیمان لین الحدیث راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3353

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیامت کے دن انسانی اعمال پر گواہیوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يومئذ تحدث أخبارها» کی تلاوت کی اور فرمایا: کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کی خبریں کیا ہوں گی؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے خلاف گواہی دے گی، جو کام بھی انہوں نے زمین پر کیا ہو گا، وہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کام کیا ، آپ نے فرمایا: یہی اس کی خبریں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2429]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یحییٰ بن ابی سلیمان لین الحدیث راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2429 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3353 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ «إذا زلزلت» سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ الزلزال کی) آیت «يومئذ تحدث أخبارها» اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی (الزلزال: ۴)، پڑھی، پھر آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: اس کی خبریں یہ ہیں کہ اس کی پیٹھ پر یعنی زمین پر ہر بندے نے خواہ مرد ہو یا عورت جو کچھ کیا ہو گا اس کی وہ گواہی دے گی، وہ کہے گی: اس بندے نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا، یہی اس کی خبریں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3353]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی (الزلزال: 4)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3353 سے ماخوذ ہے۔