حدیث نمبر: 2425
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرْضَاتٍ ، فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ ، وَأَمَّا الْعَرْضَةُ الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي ، فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ ، وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : وَلَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَلَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي مُوسَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی ، دو بار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے ، اور تیسری بار ان لوگوں کے اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے ، تو کوئی اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑے ہو گا اور کوئی بائیں ہاتھ میں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، اس لیے کہ حسن کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ثابت نہیں ہے ، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو «عن علي الرفاعي عن الحسن عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے ، ۳- یہ حدیث بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ حسن کا سماع ابوموسیٰ اشعری سے بھی ثابت نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (4277) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (932) عن أبي موسى، وانظر شرح العقيدة الطحاوية - طبع المكتب الإسلامي - (556) ، المشكاة (5557 و 5558) ، ضعيف الجامع الصغير (6432) // , شیخ زبیر علی زئی: (2425) إسناده ضعيف, الحسن عنعن (تقدم: 21) وللحديث لون آخر عند ابن ماجه (4277) وسنده ضعيف
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12250) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ثابت نہیں ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیامت کے دن کی پیشی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دو بار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے، اور تیسری بار ان لوگوں کے اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑے ہو گا اور کوئی بائیں ہاتھ میں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2425]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(حسن بصری کا سماع ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2425 سے ماخوذ ہے۔