سنن ترمذي
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
باب مَا جَاءَ فِي شَأْنِ الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ باب: قیامت کے دن حساب اور قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 2420
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " , وفي الباب عن أَبِي ذَرٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) حقداروں کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے گا ، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوذر اور عبداللہ بن انیس رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2582 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے روز حق والوں کو ان کا حق دلوایا جائے گا حتیٰ کہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے اس کا بدلہ دلوایا جائے گا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6580]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
جلحاء: بےسینگ۔
(2)
قرناء: سینگ والی۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن حیوانات کو بھی اٹھایا جائے گا اور ان کو بھی ایک دوسرے سے بدلا دلوایا جائے گا، لیکن چونکہ وہ مکلف نہیں ہیں اس لیے ان کے لیے جنت یا دوزخ نہیں ہے۔
(1)
جلحاء: بےسینگ۔
(2)
قرناء: سینگ والی۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن حیوانات کو بھی اٹھایا جائے گا اور ان کو بھی ایک دوسرے سے بدلا دلوایا جائے گا، لیکن چونکہ وہ مکلف نہیں ہیں اس لیے ان کے لیے جنت یا دوزخ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2582 سے ماخوذ ہے۔