سنن ترمذي
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
باب فِي الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے دن حساب اور بدلے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ ، ثُمَّ يَنْظُرُ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ حَرَّ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کا رب اس سے قیامت کے روز کلام کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا ، وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی ، پھر بائیں جانب دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی ، پھر سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جو جہنم کی گرمی سے اپنے چہرے کو بچانا چاہے تو اسے ایسا کرنا چاہیئے ، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کا رب اس سے قیامت کے روز کلام کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا، وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر بائیں جانب دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی “، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے جو جہنم کی گرمی سے اپنے چہرے کو بچانا چاہے تو اسے ایسا کرنا چاہیئے، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2415]
وضاحت:
1؎:
یعنی جہنم سے بچاؤ کا راستہ اختیار کرے، اس لیے زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرے، اورنیک عمل کرتا رہے، کیوں کہ یہ جہنم سے بچاؤ اور نجات کا ذریعہ ہیں۔
1۔
مذکورہ حدیث ایک طویل روایت کا ٹکڑا ہے جسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اختصار سے بیان کیا ہے۔
اس حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ’’تم میں سے ایک ملاقات کے وقت اپنے رب کے روبروکھڑا ہوگا۔
اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا جو ترجمانی کے فرائض سر انجام دے۔
اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے اپنے احکام پہنچانے کے لیے تیری طرف رسول نہیں بھیجا تھا؟ بندہ جواب دے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور تجھ پر اپنی رحمت کا فیضان نہیں کیا تھا؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، اس کے بعد بندہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو جہنم کے سوا اسے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، اسی طرح بائیں جانب دیکھے گا تو جہنم کے علاوہ اسے کچھ دکھائی نہیں دے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں فرمایا: ’’آگ سے بچو، خواہ تمھیں کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔
اگر کوئی شخص کھجور کا ٹکڑا نہ پائے تو بھلی بات سے دوسرے کی رہنمائی کردے۔
‘‘ (صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3595)
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ قیامت کے دن حساب کے وقت اہل ایمان اپنے رب کو دیکھیں گے اور اس کا کلام سنیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے پردے ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنی مخلوق سے حجاب اور پردے میں ہے لیکن اہل بدعت ان پردوں کا انکار کرتے ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ابن بطال سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد آنکھوں کی وہ آفت ہے جو اللہ تعالیٰ کو دیکھنے سے مانع ہے اور رفع حجاب کے معنی یہ ہیں کہ اہل ایمان کی آنکھوں سے وہ آفت دور ہو جائے گی۔
(فتح الباري: 531/13)
جبکہ متعدد احادیث سے اللہ تعالیٰ کے لے پردوں کا ثبوت ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے لیے نور کے پردے ہیں۔
اگر وہ انھیں دور کردے تو اس کے چہرے کی کرنیں انتہائے نظر تک ہرچیز کو جلا کر رکھ دیں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 445(179)
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب: (نقض تأسيس الجهمية)
میں ان دلائل کی خوب تردید کی ہے جو منکرین حضرات اس سلسلے میں پیش کر سکتے ہیں۔
وہ لائق مطالعہ ہے۔
ان نورانی پردوں کا وہی لوگ انکار یا تاویل کرتے ہیں جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔
أعاذنا اللہ منھم۔
توحید کے بعد وہ جو اعمال کام آئیں کے ان میں فی سبیل اللہ کسی غریب مسکین یتیم بیوہ کی مدد کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے وہ مدد خواہ کتنی ہی حقیر ہوا گر اس میں خلوص ہے تو اللہ اسے بہت بڑھا دے گا۔
ادنیٰ سےادنیٰ مد کھجور کا آدھا حصہ بھی ہے۔
اللہ توفیق بخشے اورقبول کرے۔
حضرت عدی بن حاتم سنہ 67ھ میں بعمر 110 سال کوفہ میں فوت ہوئے۔
بڑے خاندانی بزرگ تھے۔
بہت بڑے سخی حاتم طائی کےبیٹے ہیں۔
شعبان سنہ 7ھ میں مسلمان ہوئے۔
بعض مؤرخین ان کی عمر ایک سو اسی برس لکھی ہے۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
اس حدیث میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے براہ راست ہم کلام ہوگا۔
ان کے درمیان کوئی واسطہ یا ترجمان نہیں ہو گا۔
توحید باری تعالیٰ کے بعد قیامت کے دن جو اعمال کام آئیں گے ان میں سے کسی غریب، مسکین اور حاجت مند کی فی سبیل اللہ مدد کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
وہ مدد خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو اگر اس میں خلوص ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا دے گا۔
اگر اتنی بھی ہمت نہیں تو دوسروں کو بھلی بات کہنا بھی بہت وزن رکھتی ہے۔
زبان سے دوسروں کی خیرخواہی کرنے کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیا جائے تو یہ عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت کار آمد اور ثمر آور ہے۔
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) بغیر کسی ترجمان کے ہم کلام ہو گا ۱؎، بندہ اپنی دائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو اپنے آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر بائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر اپنے آگے دیکھے گا تو جہنم اس کے سامنے ہو گی پس جو جہنم سے بچ سکتا ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کو اللہ کی راہ میں دے کر تو اس کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 185]
اس حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کا ثبوت ہے۔ (بندے کو اپنے اعمال کا خود ہی حساب دینا پڑے گا، اس لیے کسی بزرگ کی سفارش وغیرہ پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
جہنم سے بچاؤ کے لیے نیک اعمال ضروری ہیں۔
(4)
صدقہ بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھنے والا نیک عمل ہے۔
(5)
اگر بڑا نیک عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو چھوٹا عمل کر لینا چاہیے، کچھ نہ کرنے سے چھوٹی نیکی بھی بہتر ہے۔
(6)
کسی نیکی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، خلوص کے ساتھ کی گئی چھوٹی سی نیکی بھی اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر شخص سے قیامت کے دن کلام کرے گا، اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا، وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ ہو گی، دائیں جانب دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا کچھ نہ پائے گا، اور بائیں دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا ادھر بھی کچھ نہ دیکھے گا، لہٰذا تم میں سے جو جہنم سے بچ سکے تو اپنے بچاؤ کا سامان کرے، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کر کے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1843]
فوائد ومسائل: (1)
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص سے خود حساب لے گا۔
کلام کرنا اللہ کی صفت ہے جس کی اصل حقیقت وکیفیت سے ہم واقف نہیں، تاہم اسے مخلوق کی صفت کلام سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔
اللہ کی اس قسم کی صفات کی تاویل سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ہر شخص کو اپنے اچھے برے اعمال کا حساب دینا ہوگا، لہٰذا یہ کہہ کر مطمئن ہو جانا غلط ہے کہ اگر میں فلاں گناہ کرتا ہوں تو اور بہت سے لوگ بھی یہی گناہ کرتے ہیں۔
اگر میں فلاں نیکی کی پروا نہیں کرتا تو اور بھی بہت سے لوگ اس نیکی سے محروم ہیں۔
اس قسم کی باتیں شیطانی وساوس ہیں جن کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کو نیکی کے کاموں سے اور توبہ سے محروم رکھتا ہے۔
چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا چاہیے معلوم نہیں کسی بڑی نیکی کا موقع ملے گا یا نہیں اور اگر کوئی بڑا کام کر لیا تو اس میں کس قدر نقص ہو گا؟ اللہ جانے وہ قبول ہونے کے قابل بھی ہو گا یا نہیں۔
کوئی شخص نیکی کا چھوٹا سا کام کرے تو اس پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، شاید اس کے لیے وہی نجات کا باعث بن جائے۔
اس حدیث میں اسلام کے غلبے کا ذکر ہے کہ اسلام غالب آئے گا، اور ہر طرف امن ہی امن ہوگا، عزت، مال وغیرہ سب کچھ محفوظ ہوں گے، اور ایسے ہی ہوا، والحمد للہ اور عنقریب ایسے ہی ہوگا۔