حدیث نمبر: 241
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى ، كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَتَانِ ، بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ ، عَنْ أَنَسٍ مَوْقُوفًا وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ إِلَّا مَا رَوَى سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍوَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَوْلَهُ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَرَوَى إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ ، وَهُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ ، وَعُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ لَمْ يُدْرِكْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ يُكْنَى أَبَا الْكَشُوثَى وَيُقَالُ : أَبُو عُمَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی : ایک آگ سے برات ، دوسری نفاق سے برات “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : انس سے یہ حدیث موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے ، اور ہم نہیں جانتے کہ ابوقتیبہ سلمہ بن قتیبہ کے سوا کسی نے اسے مرفوع روایت کیا ہو یہ حدیث حبیب بن ابی حبیب بجلی سے بھی روایت کی جاتی ہے انہوں نے اسے انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور اسے انس ہی کا قول قرار دیا ہے ، اسے مرفوع نہیں کیا ، نیز اسماعیل بن عیاش نے یہ حدیث بطریق «عمارة بن غزية عن أنس بن مالك عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ، اور یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل ۱؎ ہے ، عمارہ بن غزیہ نے انس بن مالک کا زمانہ نہیں پایا ۔

وضاحت:
۱؎: مرسل یہاں منقطع کے معنی میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 241
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، التعليق الرغيب (1 / 151) ، الصحيحة (2652) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف, حبيب مدلس وعنعن (د 298) وللحديث طريق آخر ضعيف عند بحشل الواسطي في تاريخ واسط (ص 65،66)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 521) (حسن) (الصحیحة 2562، و1979، وتراجع الألبانی 450)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 798

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی: ایک آگ سے برات، دوسری نفاق سے برات۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 241]
اردو حاشہ:
1؎:
مرسل یہاں منقطع کے معنی میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 241 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 798 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت۔`
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، اور نماز عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 798]
اردو حاشہ: (1)
  چالیس رات سے مراد چالیس دن رات کی مسلسل مدت ہے۔

(2)
چالیس دن مسلسل باجماعت ادا کرنے سے اس کی عادت ہو جاتی ہے پھر آئندہ زندگی میں جماعت کی پابندی کرنے کی توفیق مل جاتی ہے جس کا نتیجہ اللہ کی رضا کا حصول اور جہنم سے آزادی ہے۔

(3)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک حسن ہے تاہم اس میں الفاظ (لَا تَفُوْتُهُ الرَّكعَةُ الاُوْلٰي)
اس کی نماز عشاء کی پہلی رکعت نہ چھوٹے ثابت نہیں ان الفاظ کے بغیر ان کے نزدیک یہ صحیح ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة رقم: 2652)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 798 سے ماخوذ ہے۔