سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاَءِ باب: مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2397
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد سے زیادہ درد کسی شخص کا نہیں دیکھا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے اس تکلیف کی طرف اشارہ ہے جس سے مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو چار ہوئے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔`
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد سے زیادہ درد کسی شخص کا نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2397]
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد سے زیادہ درد کسی شخص کا نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2397]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے اس تکلیف کی طرف اشارہ ہے جس سے مرض الموت میں آپ ﷺدو چار ہوئے تھے۔
وضاحت:
1؎:
اس سے اس تکلیف کی طرف اشارہ ہے جس سے مرض الموت میں آپ ﷺدو چار ہوئے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2397 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5646 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5646. ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو سخت بیماری میں مبتلا نہیں دیکھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5646]
حدیث حاشیہ: آپ کو اس قدر شدید بخار تھا کہ چادر مبارک بھی بہت سخت گرم ہو گئی تھی، بار بار غشی طاری ہوتی اور آپ بے ہوش ہو کر ہوش میں ہو جاتے پھر غشی طاری ہو جاتی اور وقت ہوش زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلتے (اللھم ألحقني بالرفیق الأعلیٰ صلی اللہ علیه وسلم۔
)
)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5646 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5646 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5646. ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو سخت بیماری میں مبتلا نہیں دیکھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5646]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مرض وفات کی حالت بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوتی، پھر ہوش میں آتے، پانی سے کپڑا تر کر کے ہونٹوں پر لگاتے اور کہتے: موت کی بہت سختیاں ہیں۔
(2)
اللہ تعالیٰ ان حضرات کو سخت تکلیفوں میں مبتلا کرتا ہے جن میں قوتِ یقین، کمالِ صبر اور ایمان کی بہت مضبوطی ہوتی ہے۔
وہ بیماری کو حصول ثواب اور بلندئ درجات کا ذریعہ خیال کرتے ہیں، اس لیے جس قدر بیماری سخت ہو گی اسی قدر ثواب زیادہ ہو گا۔
واللہ المستعان
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مرض وفات کی حالت بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوتی، پھر ہوش میں آتے، پانی سے کپڑا تر کر کے ہونٹوں پر لگاتے اور کہتے: موت کی بہت سختیاں ہیں۔
(2)
اللہ تعالیٰ ان حضرات کو سخت تکلیفوں میں مبتلا کرتا ہے جن میں قوتِ یقین، کمالِ صبر اور ایمان کی بہت مضبوطی ہوتی ہے۔
وہ بیماری کو حصول ثواب اور بلندئ درجات کا ذریعہ خیال کرتے ہیں، اس لیے جس قدر بیماری سخت ہو گی اسی قدر ثواب زیادہ ہو گا۔
واللہ المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5646 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1622 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1622]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1622]
اردو حاشہ:
فائده:
جان نکلنے کی سختی یا نرمی اور چیز ہے۔
اور بیماری کی وجہ سے جسم کا تکلیف محسوس کرنا اور چیز ہے۔
بعض اوقات مرض کی شدت کی وجہ سے وفات تک تکلیف رہتی ہے۔
یہ جسمانی تکلیف ہے۔
جس کا انسان کے نیک یا بد ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
جان نکلتے وقت فرشتوں کی سختی کی وجہ سے حاصل ہونے والی تکلیف کا تعلق روح سے ہے۔
اسے قریب بیٹھے ہوئے لوگ بھی محسوس نہیں کرسکتے البتہ یہ تکلیف نیک لوگوں کو نہیں ہوتی۔
گناہ گاروں اور کافروں کو ان کے جرائم کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی ہے۔
فائده:
جان نکلنے کی سختی یا نرمی اور چیز ہے۔
اور بیماری کی وجہ سے جسم کا تکلیف محسوس کرنا اور چیز ہے۔
بعض اوقات مرض کی شدت کی وجہ سے وفات تک تکلیف رہتی ہے۔
یہ جسمانی تکلیف ہے۔
جس کا انسان کے نیک یا بد ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
جان نکلتے وقت فرشتوں کی سختی کی وجہ سے حاصل ہونے والی تکلیف کا تعلق روح سے ہے۔
اسے قریب بیٹھے ہوئے لوگ بھی محسوس نہیں کرسکتے البتہ یہ تکلیف نیک لوگوں کو نہیں ہوتی۔
گناہ گاروں اور کافروں کو ان کے جرائم کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1622 سے ماخوذ ہے۔