حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ سَالِمٌ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا ، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو ، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مسلمان دنیا میں رہتے ہوئے اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے، یہاں تک کہ کھانے کی دعوت دیتے وقت ایسے لوگوں کا انتخاب کرے جو متقی و پرہیزگار ہوں، کیونکہ دعوت سے آپسی الفت و محبت میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے کوشش یہ ہو کہ الف و محبت کسی پرہیزگار شخص سے ہو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2395
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (5018)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 19 (4832) ( تحفة الأشراف : 4049 و 4399) ، و مسند احمد (3/38) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4832

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مومن کی صحبت اختیار کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2395]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مسلمان دنیا میں رہتے ہوئے اچھے اورنیک لوگوں کی صحبت اختیارکرے، یہاں تک کہ کھانے کی دعوت دیتے وقت ایسے لوگوں کا انتخاب کرے جومتقی وپرہیزگارہوں، کیونکہ دعوت سے آپسی الفت ومحبت میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے کوشش یہ ہوکہ الف ومحبت کسی پرہیزگارشخص سے ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2395 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4832 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟`
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ ۱؎، اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4832]
فوائد ومسائل:
1) فارسی میں کہتے ہیں: صحبت صا لح ترا صالح کند صحبت طالح ترا طالح کند۔
صحبت اور مجلس سے انسان اپنے ساتھی کی عادات اور رنگ ڈھنگ اختیار کرلیتا ہے اور دھیرے دھیرے اس کی محبت بھی دل میں گھر کر جاتی ہے اور معا ملہ دین اور عقیدے تک جا پہنچتا ہے، اس لیے صاحبِ ایمان کے علاوہ فاسق و فاجر کی صحبت سے گریز کرنا واجب ہے۔

2) صدقات و ہدایات میں اولیت اہلِ ایمان اور اہلِ تقوٰی کو حاصل ہے، دیگر لوگ دوسرے درجے پر ہیں اور ان سے احسان کرنے میں بھی اجر ہے۔
جیسے کہ ارشادِ باری تعالی ہے: (وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا) اہلِ ایمان اللہ کی محبت کی بنا پر مسکینوںِ یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔
اور قیدی ہر طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں۔
مسلمان، فاسق، فاجر اور کافر۔
اسی طرح یتامٰی اور مساکین کا معاملہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4832 سے ماخوذ ہے۔