حدیث نمبر: 2394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ الْخَيَّاطِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´۴- ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بے جا تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2394
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (2393)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12249) (صحیح) (سند میں حسن بصری کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مداحوں کو ناپسند کرنے اور بے جا تعریف و مدح کی کراہت کا بیان۔`
۴- ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بے جا تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2394]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حسن بصری کا سماع ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2394 سے ماخوذ ہے۔