سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي نَشْرِ الأَصَابِعِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ باب: اللہ اکبر کہتے وقت انگلیاں کھلی رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 239
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ نَشَرَ أَصَابِعَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ : حَسَنٌ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا " وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ ، وَأَخْطَأَ يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے تو اپنی انگلیاں کھلی رکھتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن ہے ، ۲- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق «ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان عن أبي هريرة» روایت کی ہے ( ان کے الفاظ ہیں ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے تھے ۔ یہ روایت یحییٰ بن یمان کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ، یحییٰ بن یمان کی روایت غلط ہے ان سے اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے ، ( اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اللہ اکبر کہتے وقت انگلیاں کھلی رکھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے تو اپنی انگلیاں کھلی رکھتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 239]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے تو اپنی انگلیاں کھلی رکھتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 239]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’یحیی بن الیمان‘‘ اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اس لیے انہیں وہم زیادہ ہوتا تھا، اس لیے انہوں نے ((رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا)) اگلی روایت کے الفاظ کی بجائے ((نَشَرَ أَصَابِعَه)) کہہ دیا۔
نوٹ:
(سند میں ’’یحیی بن الیمان‘‘ اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اس لیے انہیں وہم زیادہ ہوتا تھا، اس لیے انہوں نے ((رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا)) اگلی روایت کے الفاظ کی بجائے ((نَشَرَ أَصَابِعَه)) کہہ دیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 239 سے ماخوذ ہے۔