مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2385
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ ، وَلَا صَوْمٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " , فَمَا رَأَيْتُ فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِهَذَا , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ “ اس آدمی نے کہا : میں موجود ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” قیامت کے لیے تم نے کیا تیاری کر رکھی ہے “ ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کوئی زیادہ صوم و صلاۃ اکٹھا نہیں کی ہے ( یعنی نوافل وغیرہ ) مگر یہ بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے ، اور تم بھی اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو “ ۔ انس کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں نے مسلمانوں کو اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا آپ کے اس قول سے وہ سب خوش نظر آ رہے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الروض النضير (104)

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6171 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6171. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا: تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے قیامت کی تیاری میں نہ زیادہ نمازیں پڑھی ہیں اور نہ زیادہ صدقات دیے ہیں، البتہ میں اللہ کے رسول ﷺ سے محبت ضرور کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6171]
حدیث حاشیہ: یہی حال مجھ ناچیز کا بھی ہے اللہ مجھ کو بھی اس حدیث کا مصداق بنائے آمین۔
امام ابو نعیم نے اس حدیث کے سب طریقوں کو کتاب المحبین میں جمع کیا ہے۔
بیس صحابہ کے قریب اس کے راوی ہیں۔
اس حدیث میں بڑی خوشخبری ہے۔
ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل بیت اور جملہ صحابہ کرام اور اولیاءاللہ سے محبت رکھتے ہیں۔
یا اللہ! ہم اپنے دلوں میں تیری اورتیرے حبیب اور صحابہ کرام کے بعد جس قدر حضرت امام بخاری کی محبت دلوں میں رکھتے ہیں وہ تجھ کو خوب معلوم ہے پس قیامت کے دن ہم کو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بارگاہ رسالت میں شرف حضور عطا فرمانا، آمین یا رب العالمین۔
نیز میرے اہل بیت اور جملہ شائقین عظام، معاونین کرام کو بھی یہ شرف بخش دیجیو۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6171 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6171 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6171. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا: تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے قیامت کی تیاری میں نہ زیادہ نمازیں پڑھی ہیں اور نہ زیادہ صدقات دیے ہیں، البتہ میں اللہ کے رسول ﷺ سے محبت ضرور کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6171]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان روایات میں (من أحب)
عام ہے، اللہ تعالیٰ سے محبت کرے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرے اور لوگوں سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے محبت کرے، یعنی وہ مخلص ہو، ریا کار نہ ہو، ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات اس محبت کے پس منظر میں نہ ہوں تو جن سے محبت کرے گا قیامت کے دن انہی کے ساتھ ہو گا۔
مطلب یہ ہے کہ حسن نیت کے ساتھ عمل کی زیادتی کے بغیر وہ جنت میں ان کے ساتھ ہو گا اور ان کے ساتھ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ درجات میں بھی ان کے برابر ہو گا۔
(2)
بہرحال جو شخص اللہ کے لیے نیک لوگوں سے محبت کرے گا اللہ تعالیٰ ان سب کو جنت میں جمع کر دے گا اگرچہ عمل و کردار میں ان سے کم ہو جیسا کہ آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بدنی اور مالی عبادات سے فرائض کے علاوہ کچھ نہیں کیا تھا لیکن اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی، اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چونکہ تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے، لہذا تیرا مقام عام لوگوں سے بلند ہو گا۔
‘‘
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6171 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3688 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3688. حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے، کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے قیامت کے متعلق پوچھا کہ وہ کب آئے گی؟آپ نے فرمایا: ’’تونے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: کچھ بھی نہیں، صرف اتنی بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’تو قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت رکھتا ہے۔‘‘ حضرت انس کا بیان ہے کہ ہم کسی بات سے اتنا خوش نہ ہوئے جس قدر نبی ﷺ کے اس ارشاد گرامی سے خوش ہوئے۔ ’’جس کو تو محبوب رکھتا ہے قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا۔‘‘ حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی ﷺ حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے محبت رکھتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس محبت کی وجہ سے میں ان کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میں نے ان جیسے عمل نہیں کیے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3688]
حدیث حاشیہ: حضرت انس ؓ کے ساتھ مترجم وناشر کی بھی یہی دعا ہے۔
اور مصحح کی بھی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3688 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3688 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3688. حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے، کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے قیامت کے متعلق پوچھا کہ وہ کب آئے گی؟آپ نے فرمایا: ’’تونے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: کچھ بھی نہیں، صرف اتنی بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’تو قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت رکھتا ہے۔‘‘ حضرت انس کا بیان ہے کہ ہم کسی بات سے اتنا خوش نہ ہوئے جس قدر نبی ﷺ کے اس ارشاد گرامی سے خوش ہوئے۔ ’’جس کو تو محبوب رکھتا ہے قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا۔‘‘ حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی ﷺ حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ سے محبت رکھتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس محبت کی وجہ سے میں ان کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میں نے ان جیسے عمل نہیں کیے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3688]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث کے پیش نظر مترجم،ناشر اور قارئین کرام ان جذبات کا اظہار کرتے ہیں: ’’اے اللہ! ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے محبت کرتے ہیں اس لیے قیامت کے دن ہمیں ان کی رفاقت میسر فرما اگرچہ ہم ان حضرات کا رہائے خیر بجالانے سے قاصر ہیں۔
‘‘2۔
واضح رہے کہ اس معیت سے مراد ثواب اور اجر میں مشارکت اور معیت خاصہ ہے جس میں محب اورمحبوب کے درمیان ملاقات بھی شامل ہے۔
یہ مقصد قطعاً نہیں کہ دونوں ایک درجے میں ہوں گے کیونکہ یہ توعقلی طور پر بھی محال ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3688 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6167 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6167. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ دیہاتیوں سے ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا: تیرے لیے خرابی ہو! تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے تو اس کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں کی، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے ضرور محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہوگے جن سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے پوچھا: ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ پھر سیدہ مغیرہ ؓ کا ایک غلام وہاں سے گزرا جو میرا ہم عمر تھا، آپ نے فرمایا: اگر یہ زندہ رہا تو اس کو بڑھاپا نہیں آئے گا حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ اس حدیث کو شعبہ نے قتادہ سےمختصر ذکر کرتے ہوئے کہا میں نے حضرت انس ؓ کو نبی ﷺ سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6167]
حدیث حاشیہ: یعنی تم لوگ دنیا سے گزر جاؤگے۔
موت بھی ایک قیامت ہی ہے جیسے دوسری حدیث میں ہے ''مَن مَاتَ فقد قامت قِیامتُهُ'' باقی رہا قیامت کبریٰ یعنی آسمان زمین کا پھٹنا۔
اس کے وقت کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہیں جانتے تھے ان جملہ مذکورہ روایات میں لفظ ویلك یا ویحك استعمال ہوا ہے۔
اسی لئے ان کو یہاں نقل کیا گیا ہے باب سے یہی وجہ مطابقت ہے۔
اس حدیث کو شعبہ نے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔
قتادہ سے کہ میں نے انس سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6167 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6167 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6167. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ دیہاتیوں سے ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا: تیرے لیے خرابی ہو! تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے تو اس کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں کی، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے ضرور محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہوگے جن سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے پوچھا: ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ پھر سیدہ مغیرہ ؓ کا ایک غلام وہاں سے گزرا جو میرا ہم عمر تھا، آپ نے فرمایا: اگر یہ زندہ رہا تو اس کو بڑھاپا نہیں آئے گا حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ اس حدیث کو شعبہ نے قتادہ سےمختصر ذکر کرتے ہوئے کہا میں نے حضرت انس ؓ کو نبی ﷺ سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6167]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ اس محبت کی وجہ سے میں قیامت کے دن ان حضرات کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میں ان جیسے اعمال نہیں کر سکا ہوں۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3688) (2)
واضح رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان کے تحت نو روایات مختلف انداز سے بیان کی ہیں، کچھ روایات میں حتمی طور پر ويلك کے الفاظ ہیں جیسا کہ حدیث: 6159، 6160، 6162، 6163 اور 6167 میں ہے اور کچھ روایات میں حتمی طور پر ويحك کے الفاظ ہیں جیسا کہ حدیث: 6161 اور 6165 میں ہے۔
ایک روایت میں حتمی طور پر کچھ راوی ويلك اور کچھ دوسرے ويحك سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ حدیث: 6164 میں ہے، جبکہ ایک روایت شک کے ساتھ بیان ہوئی ہے، پھر کچھ نے ويحكم کہا اور کچھ نے ويلكم ذکر کیا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک ويل اور ويح کے ایک ہی معنی ہیں۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس انداز سے ایک روایت کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ روایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’تم لفظ ويح سے نہ گھبراؤ کیونکہ یہ تو رحمت کا کلمہ ہے، البتہ لفظ الويل پریشان کن کلمہ ضرور ہے۔
‘‘ (مساوئ الأخلاق: 389/5، رقم: 872، وفتح الباري: 679/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6167 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7153 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7153. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں اور نبی ﷺ سے نکل رہے تھے کہ ایک شخص ہمیں مسجد کے دروازے پر ملا اور اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! قیامت کب ہوگی؟ نبی ﷺ نے فرمایا: تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ یہ سن کر وہ شخص خاموش سا ہوگیا۔پھر کہا: اللہ کے رسول! میں نے زیادہ روزے،زیادہ نمازیں اور زیادہ صدقہ وخیرات تو جمع نہیں کیا، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت ضرور رکھتا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے دن) تو ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے تو محبت کرتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7153]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر بہت خوش ہوئے کہ قیامت کے دن انسان ان لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
جن سے وہ محبت کرتا ہے۔
انھوں نے مزید فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمحبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ ان سے محبت کرنے کی وجہ سے ان کے ہمراہ قیامت کے دن میرا حشر ہو گا اگرچہ میں ان کے جیسے اعمال کرنے سے قاصر ہوں۔
(صحیح الفضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 3686)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ راستہ چلتے فتوی دینا اور فیصلہ کرنا جائز ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ راستے میں سواری پپر یا چلتے ہوئے فتوی صادر کرنا اللہ تعالیٰ کے حضور تواضع اور انکسارہے۔
اگر عالم دین کسی کمزور ناتواں اور جاہل شخص کے لیے ایسا کرتا ہے تو عند اللہ اور عوام الناس کے ہاں قابل تعریف ہے نیز اگر کسی کے شر سے بچنے کے لیے راستے میں مسئلہ بتا دیا جائے تو یہ بھی قابل تعریف ہے۔
(فتح الباری: 13/164) w
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7153 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2639 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، قیامت کب ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:"تونے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ اس نے جواب دیا،اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت،آپ نے فرمایا:"تو انہی کے ساتھ ہو گا جن سے تمھیں محبت ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6710]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، قیامت کب ہو گی، یہ اہم اور قابل سوال چیز نہیں ہے، اہمیت اس استعداد اور تیاری کو حاصل ہے، جو قیامت کے احساس اور جواب دہی کے لیے کی جاتی ہے اور اس استعداد اور تیاری کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور ان کے اطاعت کیش اور فرمانبردار ہونے کو اہمیت حاصل ہے، کیونکہ انسان جن سے محبت رکھتا ہے، انہیں کے طوروطریقہ اور اسلوب حیات کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور محبت کی کسوٹی اور معیار، اتباع اور پیروی ہی ہے اور انسان جن کا طوروطریقہ اپناتا ہے، انجام بھی انہی کے ساتھ ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2639 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2386 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انجام کار آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہو گا۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے وہی بدلہ ملے گا جو کچھ اس نے کمایا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2386]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(’’أنت مع من أحببت ولک ما اکتسبت‘‘ کے سیاق سے صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2386 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5127 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی جس سے محبت کرے اس سے کہہ دے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس نے محبت کی ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5127]
فوائد ومسائل:

چاہیے کہ انسان صاحب ایمان ہونے کے ساتھ ساتھ مومنین مخلصین کے ساتھ محبت کرنے کو اپنا سرمایہ بنائے بالخصوص نبی اکرمﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور دیگر تمام اہل ایمان خواہ گزرچکے ہوں یا موجود ہوں۔
یا آنے والے۔
اور کفر وکفار اور فاسق وفاجر لوگوں سے بغض وعناد رکھے۔


اس اظہار محبت میں شرط یہ ہے کہ انسان خود اصول شریعت یعنی توحید وسنت پر کاربند اور کفر اور شرک وبدعت سے دور اور بیزار ہو۔
یہ کیفیت کے اہل خیر سے محبت کا دعویٰ ہو۔
مگر عملا ً کفر۔
شرک۔
بدعت میں مبتلا رہے۔
اور ایسے لوگوں سے ربط وضبط بڑھائے رہے تو اس کا اہل خیر سے محبت کا دعویٰ مشکوک ہوگا۔
بطور مثال ابو طالب اور منافقین کے واقعات پیش نظر رہنے چاہییں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5127 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1224 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1224- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ تو اس نے بہت زیادہ چیزوں کا تذکرہ نہیں کیا صرف اس نے یہ کہا: میں اللہ اور ا س کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جس سے محبت رکھتے ہواس کے ساتھ ہوگے۔‏‏‏‏ ابوعلی نامی راوی کہتے ہیں: امام حمیدی رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں ابن عینیہ نے 86 تابعین کی زیارت کی ہے، وہ یہ فرماتے ہیں: میں نے ای۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1224]
فائدہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت قرآن و حدیث کی اطاعت میں ہی ہے، سچا محب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پکا مومن ہوتا ہے، اور وہ جو قرآن و حدیث کے قریب نہ آئے اور زبانی دعویٰ کرے کہ میں محب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، اس کا یہ دعویٰ بےکار ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگوں کو قیامت کی تیاری کا درس دیتے رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1222 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔