سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمَرْءَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ باب: انجام کار آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہو گا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ ، وَلَا صَوْمٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " , فَمَا رَأَيْتُ فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِهَذَا , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ “ اس آدمی نے کہا : میں موجود ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” قیامت کے لیے تم نے کیا تیاری کر رکھی ہے “ ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کوئی زیادہ صوم و صلاۃ اکٹھا نہیں کی ہے ( یعنی نوافل وغیرہ ) مگر یہ بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے ، اور تم بھی اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو “ ۔ انس کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں نے مسلمانوں کو اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا آپ کے اس قول سے وہ سب خوش نظر آ رہے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
امام ابو نعیم نے اس حدیث کے سب طریقوں کو کتاب المحبین میں جمع کیا ہے۔
بیس صحابہ کے قریب اس کے راوی ہیں۔
اس حدیث میں بڑی خوشخبری ہے۔
ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل بیت اور جملہ صحابہ کرام اور اولیاءاللہ سے محبت رکھتے ہیں۔
یا اللہ! ہم اپنے دلوں میں تیری اورتیرے حبیب اور صحابہ کرام کے بعد جس قدر حضرت امام بخاری کی محبت دلوں میں رکھتے ہیں وہ تجھ کو خوب معلوم ہے پس قیامت کے دن ہم کو حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بارگاہ رسالت میں شرف حضور عطا فرمانا، آمین یا رب العالمین۔
نیز میرے اہل بیت اور جملہ شائقین عظام، معاونین کرام کو بھی یہ شرف بخش دیجیو۔
آمین۔
(1)
ان روایات میں (من أحب)
عام ہے، اللہ تعالیٰ سے محبت کرے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرے اور لوگوں سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے محبت کرے، یعنی وہ مخلص ہو، ریا کار نہ ہو، ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات اس محبت کے پس منظر میں نہ ہوں تو جن سے محبت کرے گا قیامت کے دن انہی کے ساتھ ہو گا۔
مطلب یہ ہے کہ حسن نیت کے ساتھ عمل کی زیادتی کے بغیر وہ جنت میں ان کے ساتھ ہو گا اور ان کے ساتھ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ درجات میں بھی ان کے برابر ہو گا۔
(2)
بہرحال جو شخص اللہ کے لیے نیک لوگوں سے محبت کرے گا اللہ تعالیٰ ان سب کو جنت میں جمع کر دے گا اگرچہ عمل و کردار میں ان سے کم ہو جیسا کہ آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بدنی اور مالی عبادات سے فرائض کے علاوہ کچھ نہیں کیا تھا لیکن اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی، اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چونکہ تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے، لہذا تیرا مقام عام لوگوں سے بلند ہو گا۔
‘‘
اور مصحح کی بھی۔
1۔
اس حدیث کے پیش نظر مترجم،ناشر اور قارئین کرام ان جذبات کا اظہار کرتے ہیں: ’’اے اللہ! ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے محبت کرتے ہیں اس لیے قیامت کے دن ہمیں ان کی رفاقت میسر فرما اگرچہ ہم ان حضرات کا رہائے خیر بجالانے سے قاصر ہیں۔
‘‘2۔
واضح رہے کہ اس معیت سے مراد ثواب اور اجر میں مشارکت اور معیت خاصہ ہے جس میں محب اورمحبوب کے درمیان ملاقات بھی شامل ہے۔
یہ مقصد قطعاً نہیں کہ دونوں ایک درجے میں ہوں گے کیونکہ یہ توعقلی طور پر بھی محال ہے۔
موت بھی ایک قیامت ہی ہے جیسے دوسری حدیث میں ہے ''مَن مَاتَ فقد قامت قِیامتُهُ'' باقی رہا قیامت کبریٰ یعنی آسمان زمین کا پھٹنا۔
اس کے وقت کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہیں جانتے تھے ان جملہ مذکورہ روایات میں لفظ ویلك یا ویحك استعمال ہوا ہے۔
اسی لئے ان کو یہاں نقل کیا گیا ہے باب سے یہی وجہ مطابقت ہے۔
اس حدیث کو شعبہ نے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔
قتادہ سے کہ میں نے انس سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
(1)
ایک روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ اس محبت کی وجہ سے میں قیامت کے دن ان حضرات کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میں ان جیسے اعمال نہیں کر سکا ہوں۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3688) (2)
واضح رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان کے تحت نو روایات مختلف انداز سے بیان کی ہیں، کچھ روایات میں حتمی طور پر ويلك کے الفاظ ہیں جیسا کہ حدیث: 6159، 6160، 6162، 6163 اور 6167 میں ہے اور کچھ روایات میں حتمی طور پر ويحك کے الفاظ ہیں جیسا کہ حدیث: 6161 اور 6165 میں ہے۔
ایک روایت میں حتمی طور پر کچھ راوی ويلك اور کچھ دوسرے ويحك سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ حدیث: 6164 میں ہے، جبکہ ایک روایت شک کے ساتھ بیان ہوئی ہے، پھر کچھ نے ويحكم کہا اور کچھ نے ويلكم ذکر کیا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک ويل اور ويح کے ایک ہی معنی ہیں۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس انداز سے ایک روایت کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ روایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’تم لفظ ويح سے نہ گھبراؤ کیونکہ یہ تو رحمت کا کلمہ ہے، البتہ لفظ الويل پریشان کن کلمہ ضرور ہے۔
‘‘ (مساوئ الأخلاق: 389/5، رقم: 872، وفتح الباري: 679/10)
1۔
ایک روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر بہت خوش ہوئے کہ قیامت کے دن انسان ان لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
جن سے وہ محبت کرتا ہے۔
انھوں نے مزید فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمحبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ ان سے محبت کرنے کی وجہ سے ان کے ہمراہ قیامت کے دن میرا حشر ہو گا اگرچہ میں ان کے جیسے اعمال کرنے سے قاصر ہوں۔
(صحیح الفضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 3686)
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ راستہ چلتے فتوی دینا اور فیصلہ کرنا جائز ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ راستے میں سواری پپر یا چلتے ہوئے فتوی صادر کرنا اللہ تعالیٰ کے حضور تواضع اور انکسارہے۔
اگر عالم دین کسی کمزور ناتواں اور جاہل شخص کے لیے ایسا کرتا ہے تو عند اللہ اور عوام الناس کے ہاں قابل تعریف ہے نیز اگر کسی کے شر سے بچنے کے لیے راستے میں مسئلہ بتا دیا جائے تو یہ بھی قابل تعریف ہے۔
(فتح الباری: 13/164) w
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے وہی بدلہ ملے گا جو کچھ اس نے کمایا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2386]
نوٹ:
(’’أنت مع من أحببت ولک ما اکتسبت‘‘ کے سیاق سے صحیح ہے)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا: ” آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس نے محبت کی ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5127]
1۔
چاہیے کہ انسان صاحب ایمان ہونے کے ساتھ ساتھ مومنین مخلصین کے ساتھ محبت کرنے کو اپنا سرمایہ بنائے بالخصوص نبی اکرمﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور دیگر تمام اہل ایمان خواہ گزرچکے ہوں یا موجود ہوں۔
یا آنے والے۔
اور کفر وکفار اور فاسق وفاجر لوگوں سے بغض وعناد رکھے۔
2۔
اس اظہار محبت میں شرط یہ ہے کہ انسان خود اصول شریعت یعنی توحید وسنت پر کاربند اور کفر اور شرک وبدعت سے دور اور بیزار ہو۔
یہ کیفیت کے اہل خیر سے محبت کا دعویٰ ہو۔
مگر عملا ً کفر۔
شرک۔
بدعت میں مبتلا رہے۔
اور ایسے لوگوں سے ربط وضبط بڑھائے رہے تو اس کا اہل خیر سے محبت کا دعویٰ مشکوک ہوگا۔
بطور مثال ابو طالب اور منافقین کے واقعات پیش نظر رہنے چاہییں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت قرآن و حدیث کی اطاعت میں ہی ہے، سچا محب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پکا مومن ہوتا ہے، اور وہ جو قرآن و حدیث کے قریب نہ آئے اور زبانی دعویٰ کرے کہ میں محب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، اس کا یہ دعویٰ بےکار ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگوں کو قیامت کی تیاری کا درس دیتے رہنا چاہیے۔